سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 341

سيرة النبي ما 341 جلد 4 کیلئے سوائے اس کے اور کیا چارہ ہوگا کہ وہ اسلام کے خلیفہ کے پاس آئے اور اُس کی بیعت کرے اور جب وہ خلیفہ وقت کی بیعت کرے گا تو لازماً وہ خلیفہ کے ماتحت ہوگا اُس سے بڑا نہیں ہوگا۔پس دنیا کے بادشاہوں کو جو بڑائی حاصل ہے وہ اُسی وقت تک ہے جب تک احمدیت اور اسلام کی صداقت اُن پر روشن نہیں ہوتی۔جس دن اُن پر اسلام اور احمدیت کی صداقت روشن ہو گئی اُسی دن وہی فقرے جو آج غرباء کے منہ سے سن کر وہ ہنتے ہیں وہ خود کہنے لگ جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ ہی ہمارے حاکم اور آپ ہی ہمارے سرتاج ہیں۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک بادشاہ احمدی ہو اور وہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے اور پھر وہ یہ کہے کہ میں تمہارا حاکم اور میں تمہارا بادشاہ ہوں۔لازماً وہ یہی کہے گا کہ دینی میدان میں میں ہی غلام ہوں ، میں ہی شاگرد اور میں ہی ماتحت ہوں۔عیسائیوں میں اس کی مثال موجود ہے چاہے وہ کیسی ہی غلط مثال ہو اور کتنے ہی غلط طریق پر ہو اور وہ یہ ہے کہ جو بادشاہ پوپ کو مانتے ہیں وہ پوپ کو اپنا سردار اور حاکم سمجھتے ہیں اور اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ ہماری بادشاہتیں ہمیں پوپ سے ملی ہیں۔زمانہ وسطی میں تو یہ قاعدہ تھا کہ جب بادشاہ تخت پر بیٹھتا تو وہ پوپ کے پاس اپنی بادشاہت کی منظوری کیلئے چٹھی بھیجتا اور جب وہ اسے بادشاہ تسلیم کرتا تب وہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا۔عیسائی اپنا مذہبی پیشوا پوپ کو سمجھتے ہیں۔لیکن جماعت احمدیہ کے نزد یک خلیفہ وقت اُس کا مذہبی پیشوا ہے۔پس جو بادشاہ بھی احمدی ہوگا وہ اپنے آپ کو خلیفہ وقت کا ماتحت اور اُس کا نائب سمجھے گا اور گو دنیوی معاملات میں اُس کے احکام نافذ ہوں گے مگر دینی معاملات میں حکومت احمدی خلیفہ کی ہی ہوگی۔اس لحاظ سے اگر اپنے موجودہ زمانہ کے لوگوں سے مقابلہ کرتے ہوئے کوئی شخص خلیفہ وقت کو” بعد از خدا بزرگ توئی“ کہہ دے تو کہہ سکتا ہے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ایک ایسا عقلی مسئلہ ہے کہ اس کا کوئی شخص انکار ہی نہیں کرسکتا۔