سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 330
سيرة النبي علي 330 جلد 4 جنگ احد میں رسول کریم ﷺ کی ایک چھوٹی سی ہدایت پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ 26 جون 1937 ء کو بیت اقصیٰ قادیان میں حضرت مصلح موعود نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی ہی بات ہے کہ اُحد کی جنگ کے موقع پر آپ نے ایک درہ پر دس سپاہی مقرر کئے جو اسلامی فوج کی پشت کی جانب تھا اور آپ نے اُن سے فرمایا کہ تم نے یہاں سے نہیں ہلنا۔باقی فوج خواہ ماری جائے یا جیت جائے حتی کہ دشمن بھاگ بھی جائے تو بھی تم یہیں کھڑے رہو۔گویا یہ کام اُس کڑی کے سپر د تھا اور بظاہر یہ کوئی کام نہیں کہ ایک درہ پر کھڑے رہو، خواہ فوج جیت جائے یا ہار جائے۔بظاہر اس بات کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی لیکن بعد کے واقعات سے اس کی اہمیت ظاہر ہو جاتی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دشمن کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے تو ان دس سپاہیوں نے اپنے افسر سے کہا کہ اب تو دشمن کو شکست ہو گئی ہے ہمیں بھی اجازت دیں کہ جہاد کے ثواب میں شریک ہوں لیکن افسر نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تو یہیں کھڑے رہنے کا ہے۔مگر انہوں نے کہا کہ اتنا غلو نہیں کرنا چاہئے ، کچھ تو اجتہاد سے بھی کام لینا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشا تو اس قدر تاکید سے یہ تھا کہ بے احتیاطی نہ کرنا یہ مطلب تھوڑا ہی تھا کہ واقعی اگر فتح حاصل ہو جائے تو بھی یہاں سے حرکت نہ کرنا۔