سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 328
سيرة النبي علي 328 جلد 4 گالیوں کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کا صبر حضرت مصلح موعود نے 7 مئی 1937 ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا:۔یہ سنت ہے کہ جب خدا کا کام بندہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔حضرت ابو بکر ایک مجلس میں بیٹھے تھے۔نبی کریم ﷺ بھی اس جگہ تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص آپ کو گالیاں دینے لگا۔آپ خاموش رہے۔جب اُس نے زیادہ پختی کی تو حضرت ابو بکر نے بھی اُس کو جواب دیا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تک آپ خاموش رہے خدا کے فرشتے اسے جواب دیتے رہے۔لیکن جب آپ نے خود جواب دینا شروع کیا تو وہ چلے گئے 1۔پس جس کام کو خدا نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہوتا ہے اگر بندہ اس میں دخل دے تو خدا اسے چھوڑ دیتا ہے۔لیکن اگر بندہ صبر کرے اور یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ جلد یا بدیر اس کا بدلہ لے لے گا تو خدا اس کا بدلہ لے لیتا ہے۔رسول کریم ﷺ کو مکہ میں 13 سال تک اور پھر مدینہ میں جا کر بھی دشمن نے گالیاں دیں اور تنگ کیا۔نہ صرف ایک دن نہ صرف ایک ماہ نہ صرف ایک سال بلکہ اس وقت تک مخالفین آپ کو گالیاں دے رہے ہیں اور تورات کی پیشگوئی کے مطابق کہ صل الله حضرت اسماعیل جو رسول کریم ﷺ کے جد امجد تھے ان کے خلاف ان کے بھائیوں کی تلوار ہمیشہ اٹھی رہے گی۔آپ کو لوگ ہمیشہ گالیاں دیتے رہتے ہیں لیکن خدا نے اس کا علاج اپنے ذمہ لے رکھا ہے اور اس سے بہتر علاج اس کا کیا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام میں داخل کر دے لیکن اسلام میں داخل کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔مجھے ایک دفعہ ایک یہودی نے چٹھی لکھی کہ میں وہ شخص تھا کہ شاید ہی کسی کے دل