سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 326

سيرة النبي علي 326 جلد 4 رسول کریم اللہ کا بیان فرمودہ عظیم اصلاحی نکته رسول وو الله حضرت مصلح موعود 23 اپریل 1937 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا جس میں کئی عیب تھے۔اس نے آپ سے درخواست کی اور نجات کا طریق دریافت کیا۔اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ کچھ تم کوشش کرو کچھ میں دعا کرتا ہوں۔تم یہ کرو کہ اپنے پانچ عیوب میں سے ایک کو چھوڑ دو اور میں دعا کروں گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تمہیں باقیوں کے چھوڑنے کی بھی توفیق صلى الله دے دے گا۔اُس نے دریافت کیا کہ وہ کس کو چھوڑ دے؟ حضور علی نے فرمایا کہ جھوٹ نہ بولو اور ساتھ ہی اسے فرمایا کہ وہ حضور علیہ سے ملتا ر ہے۔اُس شخص نے وعدہ کیا اور چلا گیا۔کچھ عرصہ بعد جب اُس کے دل میں ایک عیب کے ارتکاب کی خواہش پیدا ہوئی تو جھٹ اسے خیال آیا کہ رسول کریم ﷺ نے یا کسی دوست نے صلى الله پوچھا تو کیا جواب دوں گا۔لہذا اُس کا ارادہ ترک کر دیا۔کچھ وقفہ کے بعد دوسرے عیب کا خیال پیدا ہوا۔پھر جھٹ یہ امر سامنے آ گیا کہ اگر رسول کریم ﷺ یا کسی دوست نے دریافت کیا تو کیا جواب دوں گا کیونکہ جھوٹ تو بولنا نہیں۔بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ اس عیب کا ارتکاب نہیں کروں گا۔حتی کہ چاروں عیبوں کے کرنے کا باری باری خیال پیدا ہوا اور اسی خیال کے آنے سے کہ اگر رسول کریم ﷺ نے یا کسی دوست نے پوچھا تو کیا جواب دوں گا سب کا ارادہ ترک کر دیا اور اُسی دن وہ ان عیبوں سے محفوظ رہا۔اسی طرح کئی دن گزر گئے اور ہر روز اُس کی ان عیوب سے بچنے کی طاقت بڑھتی گئی اور جب رسول کریم ﷺ نے اُس کو بلایا تو اس نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ يَارَسُولَ اللَّهِ! الله