سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 320
سيرة النبي علي 320 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی بعثت انسانوں کی طرف تھی نہ کہ جنوں کی طرف 28 دسمبر 1936 ء کو حضرت مصلح موعود نے جلسہ سالا نہ قادیان میں فضائل القرآن کے موضوع پر چھٹی تقریر کی۔اس تقریر میں آپ فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ سورۃ نساء میں فرماتا ہے وَاَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ا یعنی ہم نے تجھے تمام انسانوں کیلئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس آیت میں صاف طور پر بتایا ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آدمیوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے حالانکہ اگر آدمیوں کے علاوہ کوئی اور نرالی مخلوق بھی جسے جن کہتے ہیں آپ پر ایمان لائی تھی تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ اَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ وَالْجِنِّ مگر وہ یہ نہیں فرما تا بلکہ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے آدمیوں کیلئے بھیجا ہے۔پس جب آدمیوں کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے گئے تھے تو صاف پتہ لگ گیا کہ جہاں یہ ذکر ہے کہ جن آپ پر ایمان لائے وہاں ان سے جنّ الانس ہی مراد ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے وَإِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمُ انْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ 2 یعنی اے میری قوم! تم نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا کہ ایک بچھڑے کو پوجا۔اب یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ بنی اسرائیل تھے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی جن نہیں تھے حالانکہ قرآن سے ثابت ہے کہ جن آپ پر ایمان لائے تھے۔پس صاف ثابت ہوا کہ ان جنوں سے آدمی جن ہی مراد