سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 306

سيرة النبي علي 306 جلد 4 صلى الله رسول کریم ﷺ پر اعتراض کے خطرناک نتائج وو حضرت مصلح موعود نے 4 دسمبر 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔صلى الله رسول کریم ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو مکہ کے لوگ آپ کے پاس آئے جن کی نگاہیں بوجہ ایمان سے پوری طرح روشناس نہ ہونے کے ابھی دنیا ہی کی طرف تھیں اس کے بعد کی ایک جنگ میں کچھ اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے تھے۔آنحضرت نے وہ اموال ان لوگوں میں تقسیم کر دئیے۔ایک انصاری نوجوان نے کسی مجلس میں کہا کہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے اور رسول کریم ﷺ نے اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے۔آپ کو اس کا علم ہوا تو ا کا برانصار کو بلایا اور دریافت کیا کہ مجھے ایسی بات پہنچی ہے۔انصار رو پڑے اور کہا کہ کسی نادان نے کی ہے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں اے انصار ! تم کہہ سکتے ہو کہ ہم نے محمد (ﷺ) کو اس وقت جگہ دی جب اسے کوئی جگہ نہ دیتا تھا اور اس کے شہر والوں نے اسے نکال دیا تھا پھر اس کیلئے عزت اور فتح مندی حاصل کی تو اس نے اموال اپنے رشتہ داروں کو بانٹ دیئے۔اس پر انصار کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے پھر کہا کہ يَارَسُولَ اللَّهِ! ہم ایسا نہیں کہتے۔پھر آپ نے فرمایا کہ تم اسی بات کو ایک اور طرح بھی کہہ سکتے ہو اور وہ اس طرح کہ جس شخص کو خدا نے تمام دنیا کی ہدایت کیلئے مبعوث کیا وہ مکہ کی چیز تھی مگر خدا اُسے مدینہ میں لے گیا اور پھر خدا نے اپنے زور اور طاقت سے مکہ کو اُس کیلئے فتح کیا۔اُس وقت مکہ والوں کا خیال تھا کہ ان کی چیز انہیں مل جائے گی مگر مکہ والے بھیٹر اور بکریوں کو لے گئے اور مدینہ والے خدا کے رسول کو لے کر اپنے شہر کی طرف چلے