سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 305
سيرة النبي عليه 305 جلد 4 اموال آئے تو خدا کا رسول ہمیں بھول گیا اور اس نے مال اپنے مکے کے رشتے داروں میں بانٹ دیا اور ہماری کوئی پرواہ نہ کی۔لیکن اگر تم چاہتے تو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ تمام انبیاء ایک عظیم الشان نعمت کی خبر دیتے چلے آئے تھے ، وہ یہ کہتے چلے آئے تھے کہ ایک نبی آئے گا اور وہ نہایت بلند عظمت و شان رکھتا ہو گا۔اس نبی کو خدا نے مکہ میں پیدا کیا۔وہ وہاں رہا اور جب خدا تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر مکہ فتح کیا تو مکہ والوں نے چاہا کہ اپنے رسول کو اپنے شہر میں لے جائیں لیکن اُس وقت خدا تعالیٰ نے مکہ والوں کو کہا تم اونٹ گھوڑے اور دیگر اموال لے جاؤ لیکن مدینہ والے خدا کا رسول اپنے گھروں کو لے جائیں۔یہ سن کر انصار رو پڑے اور اپنی براءت کرنے لگے۔تب آنحضرت علیہ نے فرمایا بعض باتیں جب منہ سے نکل جاتی ہیں تو اپنا نتیجہ ضرور دکھایا کرتی ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے اس کی سزا کے طور پر یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ اے انصار ! تم کو ان قربانیوں کے عوض دنیا میں قیامت تک سلطنت نہیں ملے گی۔ہاں ان کا بدلہ حوض کوثر پر تم کو دے دیا جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو اسلام میں مغل، پٹھان حتی کہ حبشی بھی بادشاہ ہوئے اور تین سو سال تک حبشیوں نے بادشاہت کی۔اور اور بھی جو قومیں مسلمان ہوئیں اُن کو خدا تعالیٰ نے سلطنت بخشی لیکن انصار 1300 سال سے کسی حصہ دنیا کے بادشاہ نہیں ہوئے۔“ ( الفضل 8 نومبر 1936 ء ) 1 : موضوعات ملا علی قاری صفحہ 35 - مطبع مجتبائی دہلی 1346ھ 2: بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی صلی الله عليه وسلم الراية يوم الفتح صفحہ 725 حدیث نمبر 4282 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 3: بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبى صلى الله عليه وسلم يعطى المؤلفة صفحہ 523 حدیث نمبر 3147 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية قلوبهم