سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 304
سيرة النبي علي 304 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی وطن اور اہل وطن سے محبت نومبر 1936 ء میں ایک مسلمان رئیس کی حضرت مصلح موعود سے قادیان میں ملاقات ہوئی۔ان سے گفتگو کے دوران آپ نے فرمایا:۔نحضرت ﷺ فرماتے ہیں حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ 1 اور جب آپ فتح مکہ کے وقت مکہ تشریف لے گئے تو صحابہ نے دریافت فرمایا کہ حضور کہاں قیام فرمائیں گے؟ اس پر حضور کی آنکھوں میں بوجہ مکہ کی محبت کے آنسو آ گئے اور فرمایا کہ مکہ والوں نے تو میرے رہنے کیلئے کوئی جگہ چھوڑی ہی نہیں 2۔صلى الله انبیاء اور ان کے متبعین کو دنیا سے محبت نہیں ہوتی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ فتح مکہ کے بعد کی ایک جنگ کے ختم ہونے پر آنحضرت ﷺ نے کچھ مال مکہ والوں میں تقسیم کیا تو ایک نوجوان انصاری نے اعتراض کیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال کے والوں کو بانٹ دیا گیا ہے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا مجھے ایک بات پہنچی ہے۔انصار بھی سمجھ گئے اور انہوں نے عرض کیا حضور ! وہ ایک نادان نوجوان نے بات کہی ہے ہم اس سے اپنی براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا بعض باتیں جب منہ سے نکل جاتی ہیں تو وہ اپنا نتیجہ پیدا کر کے رہتی ہیں۔تم یہ بات دو طرح کہہ سکتے تھے۔یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ جب مکہ والوں نے خدا کے رسول کو اپنے شہر سے نکال دیا اور اُس کے رہنے کیلئے کوئی جگہ نہ رہی تو ہم نے اسے پناہ دی اور اپنی جانیں اور اموال لگا کر اور اپنی گردنیں کٹوا کر اس کی حفاظت کی اور اسے اپنے گھروں میں جگہ دی لیکن جب الله