سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 303
سيرة النبي علي 303 جلد 4 رسول کریم عملہ کا تذلل 6 نومبر 1936 ء کو حضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔الله ایک سچے مومن میں تذلل ہوتا ہے اور وہ جوں جوں عبادت کرتا ہے اس کا تذلل ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ اس قدر عبادت کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ عرض کیا يَارَسُولَ اللهِ ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا عائشہ! کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں 1۔اسی طرح ایک دفعہ جب آپ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ اپنے اعمال کے زور سے بہشت میں جائیں گے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں میں بھی جنت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی جاؤں گا2۔گویا آپ نے اپنے اعمال کی قیمت محض اللہ تعالیٰ کا فضل رکھی۔غرض جس کو بچے کام کی توفیق مل جاتی ہے اس کے دل میں کبھی غرور پیدا (الفضل 27 ستمبر 1961ء) نہیں ہوتا۔“ 1 بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الفتح باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم صفحه 856 حدیث نمبر 4837 مطبوعہ ریاض 1999 2:بخارى كتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل صفحہ 1121 حدیث نمبر 6463 مطبوعہ رياض 1999 الطبعة الثانية