سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 296

سيرة النبي علي 296 جلد 4 رسول کریم ع کا دعوت الی اللہ میں حیرت انگیز ے استقلال حضرت مصلح موعود 21 اکتوبر 1936 ء کو اپنے خطاب میں مبلغین کو دعوت الی اللہ میں استقلال کی تلقین کرتے ہوئے رسول کریم علیہ کا ذکر بایں الفاظ فرماتے ہیں:۔رسول کریم ﷺ نے اسی وجہ سے فرمایا ہے کہ جس شخص سے کوئی ہدایت پاتا ہے اُس کی نیکیوں کا ثواب جس طرح اُس شخص کو ملتا ہے جو نیکی کر رہا ہو اس طرح ایک حصہ ثواب کا اُس شخص کو بھی ملتا ہے جس کے ذریعہ اُس نے ہدایت پائی ہو۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذریعہ کوئی دوسرا شخص گمراہ ہوتا ہے اُس کی گمراہی اور ضلالت کا گناہ جس طرح اسے ملتا ہے اسی طرح اُس شخص کو بھی گناہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوا ہو 1۔محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں یہ بات ہمارے لئے موجود ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 2 - تمہارے لئے رسول کریم ﷺ کے وجود میں نمونہ پایا جاتا ہے۔آپ نے تبلیغ شروع کی ، چند لوگوں نے آپ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر آپ کو قبول کر لیا مگر باقیوں نے انکار کر دیا۔نہ مانا، نہ مانا ، نہ مانا یہاں تک کہ سال گزر گیا، دوسرا سال گزر گیا، تیسرا سال گزر گیا، چوتھا سال گزر گیا حتی کہ دس سال گزر گئے ، گیارہ سال گزر گئے اور لوگ انکار کرتے چلے گئے۔ایک ظاہر بین شخص کی نگاہ میں اس کا مایوسی کے سوا اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا تھا مگر