سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 17

سيرة النبي علي 17 جلد 4 وو جنگوں میں رسول کریم علیہ کا خلق عظیم الله حضرت مصلح موعود 31 مارچ 1933ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔رسول کریم ﷺ کے زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ کے میدان میں جنگ میں شامل ہونے والی ایک عورت کی لاش ملتی ہے۔جنگ بھی ایسی جس کی فتح پر اسلام کی فتوحات کا انحصار تھا اور دشمن بھی ایسا جس نے اپنی ساری عمر اسلام کے مٹانے کے لئے خرچ کر دی تھی۔ایسا دشمن مارا جاتا ہے، ایسی لڑائی فتح ہوتی ہے۔لیکن ایک عورت کی لاش دیکھ کر محمد ﷺ کی ساری خوشی غم میں بدل جاتی ہے۔آپ کے چہرہ پر ایک رنگ آتا اور ایک جاتا۔صحابہ کہتے ہیں ہم نے کبھی رسول کریم ﷺ کو اتنا غضب میں الله نہیں دیکھا جتنا اُس روز 1۔اس میں رسول کریم ﷺ کا کوئی دخل نہ تھا، اسلامی لشکر کا کوئی دخل نہ تھا۔ایک ایسے موقع پر جبکہ اپنے پرائے میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بسا اوقات ایک اپنا اپنے ہاتھ سے قتل ہو جاتا ہے اتفاقاً حادثہ کے طور پر وہ عورت ماری جاتی ہے۔لیکن چونکہ اس سے اسلامی فتح مشتبہ ہو جاتی اور دشمن کو انگشت نمائی کا موقع ملتا تھا وہ کہہ سکتے تھے محمد (ﷺ) کے متبعین نے عورت کو قتل کر دیا اس لئے رسول کریم ﷺ کو یہ حملہ بہت ہی سخت نظر آیا اور آپ کی ساری خوشی غم سے بدل گئی۔جو دراصل سبق ہے اس بات کا کہ آپ کے نزدیک فتح کوئی چیز نہ تھی بلکہ نیک اور جائز ذرائع سے حاصل کردہ فتح کی قیمت آپ کے دل میں تھی۔الله ایک اور موقع پر کچھ صحابہؓ بعض لوگوں پر حملہ کر کے ان کا مال لے آئے۔جس وقت حملہ کیا گیا حج کے ایام آچکے تھے اور ان دنوں لڑائی جائز نہ تھی۔اس موقع پر بھی