سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 282

سيرة النبي علي 282 جلد 4 آنے والے مریدوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ قیامت کے روز جب ہمارے مریدوں سے خدا تعالیٰ حساب لینے لگے گا تو ہم آگے بڑھ کر کہہ دیں گے کہ ان کا حساب ہم سے لینا ان سے نہ پوچھو۔اس کے بعد مرید تو دوڑ کر جنت میں جا داخل ہوں گے۔اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ ہم سے پوچھے گا تو ہم کہیں گے کہ کیا ہمارے باپ امام حسینؓ کی قربانی کافی نہ تھی کہ اب ہمیں دق کیا جاتا ہے۔پس اس پر خدا تعالیٰ خاموش ہو جائے گا اور ہم جنت میں چلے جائیں گے۔یہ سب لغو خیالات اسی لئے پیدا ہوئے کہ لوگوں نے خدا تعالیٰ کو محمد رسول اللہ میں ہوکر نہیں دیکھا۔اگر وہ خدا تعالیٰ کو محمد رسول اللہ کی عینک میں سے دیکھتے تو اس کی ایسی بری صورت نظر نہ آتی اور توحید سے دور نہ جاپڑتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ الله آنحضرت ﷺ کے بغیر تو حید انسان پر کھل ہی نہیں سکتی۔چنانچہ دیکھ لو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت علی ہے میں محو ہو گئے اور ان میں محو ہونے کے بعد قرآن مجید پر غور کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قرآن مجید میں سے یہ نظر آ گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور اُن کو زندہ مانا شرک ہے۔حضور سے قبل لاکھوں عالم اور فقیہ موجود تھے لیکن کسی کو قرآن مجید میں یہ بات نظر نہ آئی بلکہ وہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف خدا تعالیٰ کی اکثر صفات نہایت شدومد سے منسوب کرتے تھے مثلاً وہ اب تک آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں ، وہ مردے زندہ کیا کرتے تھے ، ان کو غیب کا علم تھا وغیرہ وغیرہ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ایک احمدی بچہ بھی اس عقیدہ پر قائم رہنا گوارا نہیں کر سکتا اور وہ نہایت قوی عقلی و نقلی دلائل سے اس کو باطل کر سکتا ہے۔یہ بات اس احمدی بچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں وہ بات آنحضرت عے میں فنا اور محو ہونے سے آئی ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ سے نور لیا اور اس نور کو دنیا میں پھیلایا تو شرک کی ظلمت اس نور کے آنے سے کافور ہوگئی اور علاوہ اس ایک بات کے صلى الله