سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 281

سيرة النبي الله 281 جلد 4 تو حید قائم ہوئی اور یہی لا اله الا اللہ ایسا مائو ہے جس کو ہم اپنی اذانوں کے ساتھ بلند آواز میں بیان کرتے ہیں اور جب کسی شخص کو اسلام میں لایا جاتا ہے تو اُس سے یہی لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہلوایا جاتا ہے کیونکہ حقیقی اسلام اسی کا نام ہے اور باقی تشریحات اور تفصیلات ہیں جو ساتھ چسپاں کر دی جاتی ہیں۔اور اگر کسی شخص میں دینی کمزوری پیدا ہوتی نظر آتی ہے تو اس کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله اس کے سامنے سے ہٹ گیا ہوتا ہے ورنہ لَا اِلهَ اِلَّا الله کے سامنے موجود ہونے سے انسان دینی کمزوریوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جب لا اله الا اللہ آنکھوں سے اوجھل ہو جائے تو زید کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے، عمر کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے اور بکر کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کے جواب میں فرمایا تھا کہ تم صلى الله کس طرح کہتے ہو کہ آنحضرت علی کے بغیر بھی تو حید حاصل ہوسکتی ہے جبکہ تو حید کو انسان رسالت کے بغیر سمجھ ہی نہیں سکتا اور خصوصاً کامل تو حید کیلئے رسالت کامل یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا سمجھنا ضروری ہے۔صلى الله غرض جب تک انسان آنحضرت ﷺ میں بالکل محو نہ ہو جائے تو حید کامل کو نہیں سمجھ سکتا اور نہ اس کے تفصیلی جلوہ یعنی قرآن مجید کو سمجھ سکتا ہے۔وہ لوگ جو رسول کریم ﷺ میں محو ہو کر تو حید کو نہیں سمجھتے باوجود عقل کے شرک میں مبتلا رہتے ہیں جیسے کہ مسیحی ، ہندو، یہودی وغیرہ ہیں اور اسی طرح بہت سے مسلمان کہلانے والے جو پیروں اور فقیروں کو ہی اپنا خدا بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کی ایک ہمشیرہ نے ایک فقیر کی بیعت کی ہوئی تھی۔حضرت خلیفہ اوّل نے ایک دفعہ اس کو کہا کہ اپنے پیر صاحب سے جا کر یہ پوچھو کہ آپ کی بیعت سے مجھے کیا فائدہ ہے ؟ وہ اس فقیر سے پوچھنے گئیں۔جب واپس آئیں تو آپ نے دریافت فرمایا کہ سناؤ کیا جواب ملا؟ کہنے لگیں پیر صاحب خفا ہوکر بولے کہ تجھے یہ سوال ضرور مولوی نورالدین صاحب نے ہی سمجھایا ہوگا جا کر ان سے کہہ دے کہ ہماری بیعت میں