سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 255

سيرة النبي علي 255 جلد 4 رسول کریم بہترین مصلح حضرت مصلح موعود 17 جولائی 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔”رسول کریم ﷺ کی زندگی میں دونوں پہلو نظر آتے ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ دنیا کے مادی مصلح بھی ہیں ، اخلاقی مصلح بھی ہیں اور روحانی مصلح بھی ہیں اور آپ کی حیات طیبہ تمام کی جامع نظر آتی ہے۔اگر ایک طرف آپ تعلیم دیتے ہیں کہ اَلدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ 1 تو دوسری طرف روحانیت کی تکمیل کے متعلق زور دیتے ہیں۔دعا کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایسا ہے جیسے بچے اور ماں کا تعلق۔دعا کے معنے پکارنے کے ہیں۔پکارنے والا تب پکارتا ہے جب اسے یقین ہو کہ کوئی میری مدد کرے گا کیونکہ کون اپنے دشمن کو مدد کیلئے پکارتا ہے کہ مجھے آکر بچاؤ بلکہ انسان ایسے وقت میں خاموش رہتا ہے تا کہ کوئی اس پر ہنسے نہیں۔دعا میں تین چیزیں پائی جاتی ہیں۔اوّل یہ کہ اپنے دل میں یقین کرے کہ میری بات قبول کی جائے گی۔دوسرے یہ اعتما در کھے کہ جس کو میں پکارتا ہوں اس میں میری مدد کرنے کی طاقت ہے۔تیسرے ایک فطری لگاؤ جو انسان کو باقی ہر قسم کے لگاؤ سے پھیر کر اُسی کی طرف لے جاتا ہے۔پہلے دو تو عقلی نکتے ہیں۔تیسری فطرتی محبت ہے جو دوسری طرف سے اس کی آنکھ کو بند کر کے محبوب کی طرف لے جاتی ہے۔بچہ اور ماں کی مثال کو دیکھ لو بچہ کا ماں سے فطرتی تعلق ہوتا ہے قطع نظر اس سے کہ ماں اس کی مدد کر سکے یا نہ کر سکے وہ اسے پکارتا ہے۔ایک سمندر میں ڈوبنے والا بچہ با وجود یہ جاننے کے کہ میری ماں تیرنا نہیں جانتی پھر بھی اپنی ماں کو آواز دیتا ہے کہ مجھے بچاؤ۔کسی