سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 249
سيرة النبي عمال - 249 صلى الله جلد 4 کے لفظ سے یہ معلوم نہیں ہوتا یہ چیز کہاں سے آئی اور توکل کا لفظ بتا دیتا ہے کہ اس قسم کی بہادری اعلیٰ مقصد سے پیدا ہوتی ہے۔تو کل کے یہی معنی ہیں کہ خدا کے مقابلہ میں انسان ہر چیز کی قربانی کیلئے تیار ہو گویا تو کل کا لفظ بہادری کے اسباب وجوہ اور اس کا منبع بھی بتا دیتا ہے اور بہادری و توکل میں صرف یہی فرق ہے ورنہ دونوں چیزیں ایک ہی ہیں۔اسی بہادری کو ہم رسول کریم علیہ کے صحابہ میں بھی دیکھتے ہیں اور صحابہ میں ہی نہیں بلکہ صحابیات میں بھی ہمیں یہ چیز نظر آتی ہے اور نہ صرف عورتوں بلکہ بچوں میں بھی موجود ہے۔آج وہ زمانہ آیا ہے کہ لوگ اسلام اور ایمان کیلئے قربانی سے بچنے کیلئے عذر اور بہانے تلاش کرتے ہیں اور وقت آنے پر کے ہیں کہ ہمیں یہ وقت ہے وہ روک ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ کے ما تحت مسلمانوں میں قربانی کا وہ جذبہ پیدا ہو چکا تھا کہ مرد اور بالغ عورتیں تو الگ رہیں بچے بھی اسی جذبہ سے سرشار نظر آتے تھے یہاں تک کہ بدر کی جنگ کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو بلایا تاکہ ان میں سے ان لوگوں کا انتخاب کریں جو جنگ کے قابل ہوں۔اُس وقت ایک لڑکے کے متعلق آتا ہے دوسرے صحابہ اور وہ خود بھی بیان کرتا ہے کہ جس وقت وہ لوگ کھڑے ہوئے وہ بھی اس جوش میں کہ اسلام کی خاطر جان قربان کرنے کا موقع ملے اُن میں کھڑا ہو گیا مگر چونکہ قد چھوٹا تھا دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں چھوٹا معلوم ہوتا تھا اس وجہ سے خطرہ تھا کہ شاید منتخب نہ ہو سکے اس لئے وہ اپنی انگلیوں کے بل کھڑا ہو گیا اور ایڑیاں اوپر اٹھا لیں تا قد اونچا معلوم ہو اور چھاتی تان لی تا کمزور نہ سمجھا جائے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ پندرہ سال سے کم عمر کا کوئی لڑکا نہ لیا جائے اور جب آپ انتخاب کرتے ہوئے اس کے پاس پہنچے تو فرمایا کہ یہ بچہ ہے اسے کس نے کھڑا کر دیا ہے اسے ہٹا دو۔مگر آج ایسا ہوتا تو شاید ایسا بچہ خوشی سے اچھلنے لگتا کہ میں بچ گیا لیکن جب اُس بچہ کو الگ کیا گیا تو وہ اتنا رویا اتنا رویا کہ رسول کریم ﷺ کو رحم آگیا اور الله