سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 248

سيرة النبي عمال 248 صلى الله جلد 4 ابوطالب کے اس جواب کی اہمیت کا پورا اندازہ وہ لوگ نہیں کر سکتے جو تاریخ سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ایک اور واقعہ کو نہیں جانتے جس سے ابو طالب کی قلبی کیفیت کا پتہ چلتا اور یہ معلوم ہوتا کہ انہیں اپنی قوم سے کتنی محبت تھی۔جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو چونکہ رسول کریم ﷺ کو ان سے بہت ہی محبت تھی اُن کی قربانیوں اور حسن سلوک کی وجہ سے ، اس لئے آپ کو سخت دکھ تھا کہ آپ مسلمان ہوئے بغیر مررہے ہیں۔آپ کبھی ان کے دائیں جاتے اور کبھی بائیں اور کہتے کہ اے چچا! اب موت کا وقت قریب ہے لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله كبر دیجئے مگر ابو طالب خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔آخر رسول کریم ﷺ نے بہت اصرار کیا، آپ پر رقت طاری تھی اور آپ بار بار کہتے تھے کہ اے چچا! ایک دفعہ کلمہ پڑھ لیں تاکہ میں خدا کے حضور کہہ سکوں کہ آپ نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن ابوطالب نے آخر میں یہی جواب دیا کہ میں اپنی قوم کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا 3۔گویا ان کو اپنی قوم سے اتنی محبت تھی کہ وہ اس کے بغیر جنت میں بھی جانا نہ چاہتے تھے۔اسی قوم سے اس قدر شدید محبت رکھنے والے شخص پر رسول کریم ﷺ کے بہادرانہ جواب کا یہ اثر ہوا کہ اُس نے کہہ دیا کہ اچھا اگر قوم مجھے چھوڑتی ہے تو چھوڑ دے میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔صلى الله غرض ایسے واقعات کو دیکھ کر دوست تو کیا دشمن بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ہر شخص خواہ اس کے دل میں کتنا عنا د بھی کیوں نہ ہو ان واقعات کوسن کر سر جھکا لیتا ہے اور ایسے بہادر کی عظمت کے اقرار پر مجبور ہو جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ایسے بیسیوں نہیں سینکڑوں واقعات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ بہادری کے ایسے بلند مقام پر تھے کہ اس سے اوپر خیال بھی نہیں کیا جاسکتا بہادری کہاں سے پیدا ہوئی؟ یہ تو کل ہی سے تھی۔دنیا دار جسے بہادری کہتے ہیں مذہبی لوگ اسے تو کل کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔فرق صرف یہی ہے کہ بہادری۔