سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 247
سيرة النبي عمال الله 247 ا جلد 4 طرف سے گزریں گے مولوی صاحب سے کہنا کہ ضرور سلام کریں۔چنانچہ پیر صاحب حضرت مولوی صاحب کے مطب کے سامنے سے گزرے اور حضرت مولوی صاحب نے اپنے دوستوں سمیت باہر نکل کر اُن کو سلام کیا۔پیر صاحب نے گھوڑا کھڑا کر لیا اور حضرت مولوی صاحب سے باتیں کرنے لگے کہ دیکھو! ہمارے پاس مولوی لوگ فتوے کیلئے آئے تھے مگر ہم نے انکار کر دیا کہ ہم کو ان باتوں سے کیا تعلق ہے ہمیں سب نے سلام کرنا ہوتا ہے۔یہ واقعہ شہر میں پھیل گیا اور پیر صاحب کے مرید اس تحریک سے الگ ہو گئے اور مخالفت کا زور ٹوٹ گیا۔غرض ابو طالب کے لئے یہ بڑا امتحان تھا وہ سارے شہر میں مکرم سمجھے جاتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب اُن کی عزت جاتی رہے گی انہوں نے رسول کریم ﷺ کو بلوایا اور کہا کہ اے میرے بھتیجے ! میں سمجھتا ہوں کہ تو جو کرتا ہے سچ سمجھ کر کرتا ہے اور میں نے بھی ہمیشہ تیری مدد کی ہے اور تجھے دشمنوں سے بچایا ہے مگر اب میری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں اور کہا ہے کہ یا تو اپنے بھتیجے سے کہو کہ تبلیغ میں نرمی کرے اور یا پھر اس سے قطع تعلق کرلو اور اگر میں ایسا نہ کروں تو قوم میرے ساتھ قطع تعلق کر لے گی اور تو جانتا ہے کہ قوم کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے اب تو بتا تیری کیا رائے ہے؟ رسول کریم ﷺ نے جس وقت یہ بات سنی آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرمایا اے میرے چا! میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے مگر سچائی کے مقابلہ میں میں آپ کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوں۔اگر دشمن میری دائیں طرف سورج اور بائیں طرف چاند لا کر کھڑا کر دیں تو بھی میں تبلیغ میں نرمی نہیں کروں گا اور توحید کی اشاعت سے باز نہیں رہوں گا2۔میں آپ کیلئے ہر قربانی کرنے کو تیار ہوں لیکن یہ بات آپ کی نہیں مان سکتا آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اور اپنی قوم سے صلح کرلیں میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔اس پر باوجود اس کے کہ ابو طالب کیلئے قوم کا چھوڑ نا مشکل تھا اس دلیرانہ جواب کو سن کر ان پر یہ اثر ہوا کہ انہوں نے کہا کہ اگر قوم مجھے چھوڑتی ہے تو بے شک چھوڑ دے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔