سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 211

سيرة النبي علي 211 جلد 4 تقسیم غنائم پر ایک انصاری کا اعتراض حضرت مصلح موعود آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیئرز کور سے خطاب کرتے ہوئے الله 24 نومبر 1935 ء کو فرماتے ہیں:۔میں اس موقع پر یہ بات بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ انسان کے اعمال کے دو قسم کے بدلے ہوا کرتے ہیں ایک وہ بدلہ جو چاندی اور سونے کی صورت میں اسے ملتا ہے اور ایک وہ بدلہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رضا کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور اس موقع پر کچھ اموال ہاتھ آئے اور رسول کریم ﷺ نے بعض کمزور لوگوں میں انہیں تقسیم کر دیا تو بعض نوجوانوں نے صلى الله اعتراض کیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے مگر رسول کریم ﷺ نے اموال مکہ والوں کو دے دیئے کیونکہ وہ آپ کے رشتہ دار تھے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے تمام انصار کو جمع کیا اور ان کے سامنے یہ بات بیان فرمائی کہ آپ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں صلى الله کہ جب مکہ والوں نے محمد (ﷺ) کو باوجود بھائی بند ہونے کے اپنے شہر سے نکال دیا تو مدینہ کے لوگوں نے پناہ دی، ان کے لئے ہر قسم کی قربانی کی ، اپنی جانیں تک دیں اور ہر رنگ میں مدد اور اعانت کی لیکن جب مکہ فتح ہو گیا تو انہوں نے تمام اموال اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیئے۔آپ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا يَا رَسُولَ الله! یہ ہم نہیں کہتے۔ہم میں سے ایک بے وقوف نوجوان نے یہ بات کہی ہے۔آپ نے فرمایا مگر اس بات کی ایک اور صورت بھی تھی اور اگر تم چاہتے تو اس رنگ میں بھی کہہ سکتے تھے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک نبی بھیجا ایسا نبی جسے اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں کا