سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 210

سيرة النبي عليه 210 جلد 4 ع سامنے پیش کر سکتے ہیں اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ امت ہے جو رسول کریم ہ نے تیار کی ؟ اگر نہیں تو اس لئے کہ ان کا رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب ہونا آپ کی ہتک ہے۔پھر میں پوچھتا ہوں کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس ہتک کو دور کریں جو رسول کریم ﷺ کی دنیا میں ہو رہی ہے؟ اور کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس دھبہ کو آپ پر سے ہٹائیں؟ پس جب تک مسلمانوں کی حالت کو اس رنگ میں نہ بدل دو کہ انہیں کھیل نہ بنایا جا سکے ، نہ انہیں اسلام کی تعلیم سے پھرایا جا سکے نہ انہیں بغاوت پر آمادہ کیا جا سکے ، نہ آپس میں لڑوایا جا سکے اور نہ اخلاق سے عاری اور بے بہرہ کر کے گندی گالیاں دینے پر آمادہ کیا جا سکے ، اُس وقت تک تمہارا فرض ہے کہ مسلمانوں کی درستی کی کوشش کرتے چلے جاؤ اور دم نہ لو جب تک کہ ان کی اصلاح نہ ہو جائے۔کس طرح ممکن ہے کہ رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب ہونے والوں کی ایسی گندی حالت ہو اور ہم گھروں میں چین سے بیٹھے رہیں۔آخر یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔“ (الفضل 13 نومبر 1935ء)