سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 209
سيرة النبي علي 209 جلد 4 رسول کریم اللہ کے پیدا کردہ اخلاق صلى اللحم علوس حضرت مصلح موعود 8 نومبر 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔ایک دفعہ کسی بات میں جھگڑا ہو گیا۔حضرت عمر دوڑے دوڑے رسول کریم علی کے پاس پہنچے اور جا کر کہا مجھ سے آج سخت غلطی ہوئی حضرت ابو بکر کی میں بے ادبی کر بیٹھا حضور! میرا قصور معاف کرا دیں۔ادھر حضرت ابو بکر جلدی جلدی رسول کریم علی کے حضور پہنچے تا آپ انہیں حضرت عمرؓ سے معافی دلوا دیں۔جب حضرت ابو بکر رسول کریم ﷺ کی مجلس میں پہنچے تو حضرت عمر اس سے پہلے پہنچ چکے تھے اور واقعہ عرض کر چکے تھے۔رسول کریم ﷺ کو اسے سن کر سخت تکلیف ہوئی کہ کیوں حضرت ابوبکر سے وہ جھگڑے اور آپ نے ناراضگی سے کہنا شروع کیا کہ کیوں تم لوگ اُسے ستاتے ہو جو اُس وقت مجھ پر ایمان لایا جب دوسرے لوگ اسلام کو رد کر رہے تھے؟ صلى الله جب رسول کریم ہے اس طرح اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرما رہے تھے حضرت ابو بکر بھی وہاں آپہنچے اور بجائے اس امر پر خوش ہونے کے فوراً دو زانو ہو کر بیٹھ گئے اور عاجزانہ طور پر عرض کرنے لگ گئے کہ يَا رَسُولَ اللهِ! عمر کا قصور نہیں غلطی میری تھی۔الله یہ وہ اخلاق ہیں جو رسول کریم ﷺ نے پیدا کئے اور یہ وہ اخلاق ہیں جو تو ارث کے طور پر مسلمانوں میں چلتے رہے یہاں تک کہ ان میں بداعمالیوں کی کثرت ہو گئی اور ہوتے ہوتے اسلامی اخلاق ان میں سے بالکل مٹ گئے۔پہلے لوگوں کو تو ہم فخر کے ساتھ دوسری قوموں کے سامنے پیش کر سکتے اور ان سے کہہ سکتے تھے کہ یہ ہیں جو اسلامی اخلاق کا نمونہ ہیں۔مگر کیا آج کے مسلمانوں کو بھی ہم دوسری قوموں کے