سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 205

سيرة النبي عمال 205 جلد 4 سفارش کر دوں گا کہ آپ سے کوئی بدسلوکی نہ ہو۔جب یہ قاصد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ پیغام دیا تو آپ نے فرمایا کہ اچھا ہم کل جواب دیں گے۔دوسرے دن وہ پھر جواب کے لئے گئے مگر آپ نے پھر اگلے روز جواب دینے کو فر مایا اور اگلے روز پھر فرمایا کہ کل جواب دیں گے۔اس طرح جب تین راتیں گزر گئیں تو ان قاصدوں نے کہا کہ ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ اس طرح ٹال مٹول نہ کریں گورنر یمن نے آپ کی سفارش کا وعدہ کر لیا ہے ورنہ اگر شاہ ایران کو غصہ آگیا تو عرب کی حیثیت ہی کیا ہے وہ اسے بالکل تباہ کر دے گا۔اس پر آپ نے فرمایا سنو ! اپنے گورنر سے جا کر کہہ دو کہ میرے خدا نے تمہارے خدا کو آج رات مار دیا ہے۔انہوں نے اسے نَعُوذُ بِاللهِ مجذوب کی بڑ سمجھا اور خیر خواہی کے طور پر پھر نصیحت شروع کی مگر آپ نے فرمایا کہ تم جا کر یہ بات کہہ دو۔گورنر یمن سے جا کر اُس کے نمائندوں نے جب یہ بات کہی تو اُس نے کہا کہ یہ شخص یا تو مجنون ہے یا نبی ہے بہر حال میں انتظار کروں گا۔چند روز کے بعد ایران کا ایک جہاز بندرگاہ پر آیا جس میں سے ایک شاہی پیغامبر اترا اور بادشاہ کا خط گورنر کو دیا جس کی مہر دیکھتے ہی اُس نے کہا کہ مدینہ والے شخص کی بات سچی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اُس پر مہر ایک دوسرے با دشاہ کی تھی۔خط کو کھولا تو اُس میں لکھا تھا کہ اپنے باپ کی ظالمانہ حرکات کو دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ وہ ملک کی حالت کو خراب کر رہا ہے فلاں رات ہم نے اُسے قتل کر دیا ہے اب ہم بادشاہ ہیں اس لئے ہماری اطاعت کرو۔اور ہمارے باپ نے عرب کے ایک مدعی نبوت کے متعلق ایسا ظالمانہ حکم دیا تھا اُسے بھی ہم منسوخ کرتے ہیں 1۔“ ( الفضل 7 نومبر 1935ء) 1 تاريخ الطبرى المجلد الثانى ذكر الاحداث التي كانت في سنة ست من الهجرة صفحہ 133 ، 134 مطبوعہ بیروت 2012ء الطبعة الخامسة