سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 196
سيرة النبي علي 196 جلد 4 رسول کریم علیہ کی عملی زندگی کے اثرات 25 اکتوبر 1935ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعود نے فرمایا :۔صلى الله احادیث میں آتا ہے رسول کریم ﷺ پر جب پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی تو آپ یہ دیکھ کر کہ مجھ پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے میں اسے کس طرح ادا کر سکوں گا گھبرائے اور اپنی اس گھبراہٹ کا حضرت خدیجہ سے ذکر کیا کہ اتنا عظیم الشان کام مجھے جیسا کمزور آدمی کہاں کر سکے گا۔حضرت خدیجہ نے جب آپ کی بات سنی تو چونکہ وہ آپ کے طریق عمل کو جانتی تھیں اس لئے انہوں نے کہا آپ تو یونہی گھبرا رہے ہیں۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو چھوڑ دے۔آپ تو وہ ہیں جو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نہایت اعلیٰ برتاؤ کرتے ہیں ، ہمیشہ سچ بولتے ہیں ، لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور آپ نے ان نیک اخلاق کو اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے جو زمانہ سے مفقود ہیں۔پھر آپ مہمان کی عزت اور خاطر و تواضع کرتے اور حق کی راہ میں لوگوں کے مددگار بنتے ہیں کس طرح ممکن ہے کہ خدا آپ کو چھوڑ دے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان بتاتا ہے کہ عملی زندگی ایسی اہم چیز ہے کہ اس سے ہر دوسرا شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔حضرت خدیجہ مکہ کی تھیں جہاں کے رہنے والے الہام کے قائل نہ تھے۔غیر قوموں مثلاً یہود اور عیسائیوں سے انہیں ملنے کا کہاں موقع تھا۔بے شک حضرت خدیجہ کے ایک رشتہ کے بھائی ورقہ بن نوفل عیسائی تھے مگر وہ بھی ایک گوشہ نشین آدمی تھے تبلیغی آدمی نہ تھے۔غرض اسلام سے پہلے الہام اور اس کی حقیقت سے انہیں کوئی آگا ہی نہ تھی مگر باوجود اس کے وہ اس نکتہ کو بجھتی