سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 192
سيرة النبي علي 192 جلد 4 رسول کریم علیہ کی غیرت ایمانی رسول حضرت مصلح موعود 18 اکتوبر 1935 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔" رسول کریم ﷺ کی غیرت کو دیکھو کہ آپ کا طریق ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ کے نام کے لئے جو غیرت تھی وہ اس واقعہ سے آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔احد کی جنگ جو ایک مشہور جنگ ہے اور ہر مسلمان جسے تاریخ اسلام سے ذرہ بھر بھی اُنس ہے اس کے حالات جانتا ہے۔اس جنگ میں ایک موقع پر ایسی حالت ہو گئی کہ صحابہ کے قدم اکھڑ گئے اور بہت تھوڑے صحابہ میدانِ جنگ میں ย ره گئے۔بلکہ ایک وقت ایسا آیا جب کہ صرف چھ سات صحابہ رسول کریم ﷺ کے گرد رہ گئے۔دشمن انہیں بھی ریلتے ہوئے پیچھے دھکیل کر لے گیا اور اُس نے پتھروں کی بوچھاڑ رسول کریم ہے اور آپ کے صحابہ پر کر دی۔رسول کریم علیہ کو اس سے سخت تکلیف ہوئی ، آپ کے بعض دندان مبارک ٹوٹ گئے اور آپ تکلیف کی وجہ سے بیہوش ہو کر گر گئے۔اس کے بعد بعض صحابہ شہید ہو کر گرے اور اُن کے جسم رسول کریم ﷺ کے جسم کے اوپر گر گئے۔اور باقی صحابہ نے خیال کیا کہ شاید رسول کریم ع شہید ہو گئے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پھر طاقت دی اور اُنہوں نے باوجود کمزوری کے اس ایمان اور اخلاص سے کام لے کر جواُن میں ودیعت تھا پھر اکٹھا ہونا شروع کیا اور بہت سے صحابہ جمع ہو گئے۔صحابہ کا اخلاص اس حد تک پہنچا ہوا تھا کہ ایک صحابی کے متعلق تواریخ میں آتا ہے کہ وہ جنگِ بدر میں شامل نہ ہو سکے تھے۔بعد میں جب کبھی وہ بدر کے واقعات سنتے تو انہیں بڑا درد پیدا ہوتا اور جوں جوں صحابہ