سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 189

سيرة النبي علي 189 جلد 4 رسول کریم ﷺ پر خدا تعالیٰ کا احسان حضرت مصلح موعود 11 اکتوبر 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔” جب دنیوی عہدوں پر فائز ہونے یا اعلیٰ عہدہ داروں اور افسروں کے پاس بیٹھنے کی وجہ سے لوگ عزت محسوس کرنے لگتے ہیں تو کتنے تعجب کی بات ہو گی اس قوم کے متعلق جسے خدا تعالیٰ کی آواز سننے کا موقع ملے خواہ براہ راست سنے کا یا بالواسطہ سننے کا مگر وہ اس آواز کی قدر نہ کرے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے الَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ اے ہمارے رسول ! کیا ہم نے تیرے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا کہ تیرے دل میں اپنی اطاعت اور فرما نبرداری کا ایک جوش پیدا کر دیا اور پھر قرب کے حصول کے لئے بجائے اس کے کہ تجھ پر سب کوشش چھوڑ دی جاتی ہم نے خود الہام کے ذریعہ اپنی رضا کی راہیں تجھے بتادیں اور اس طرح تیرا بوجھ تجھ سے دور کر دیا۔کیا یہ احسان جو ہم نے تجھ پر کیا کچھ کم ہے ؟ یہ احسان جو رسول کریم ﷺ کے ساتھ کیا گیا صرف آپ کے ساتھ ہی احسان نہ تھا بلکہ ساری دنیا پر احسان ہے۔کون سا انسان ایسا ہے جسے خدا تعالیٰ نے اس احسان سے محروم رکھا یا کون سا ایسا مذہب یا ملک یا جماعت ہے جسے یہ کہہ دیا گیا ہو کہ محمد ﷺ کے اس انعام میں تم حصہ دار نہیں۔جب حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے پاس ایک کنعانی عورت آئی اور اُس نے کہا اے استاد! مجھ پر رحم کر، جو تعلیم تو دوسرے لوگوں کو دیتا ہے اُس سے مجھے بھی فائدہ اٹھانے دے تو اُسے یہ جواب دیا گیا کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں 2 اور جیسا کہ عیسائی کتب سے