سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 185
سيرة النبي عمال 185 جلد 4 قادیان پر حملہ ہو گیا تو اُس کی حفاظت کی کیا صورت ہو گی لیکن جس کے ایک محنُ کہنے سے زمین و آسمان بن جاتے اور ایک حسن کہنے سے بنے بنائے کام تباہ ہو جاتے ہیں اُس کو اس بخل اور کنجوسی کی کیا ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ تین کیا تین ہزار بلکہ تین لاکھ شہر بھی اگر مکرم بنا دے تو ان کی حفاظت کے لئے کیا اُس نے کسی سے کچھ مانگنے جانا ہے کہ مخالفین کو اس کا فکر لگا ہوا ہے! اگر تو ملکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ نہ لی ہوئی ہوتی اور اس کی حفاظت مولوی عطا اللہ شاہ صاحب کے سپرد ہوتی تب وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم کہاں کہاں کی حفاظت کریں لیکن جب کہ خدا تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی حفاظت ہمارے سپرد نہیں کی بلکہ اپنے ذمہ لی ہے تو ان مولویوں کو اس قسم کے الفاظ اپنی زبان سے نکالنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ان مولویوں کا تو خدا پر اتنا بھی ایمان نہیں جتنا رسول کریم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب کا تھا جو اسلام سے پہلے ہوئے ہیں۔اگر حضرت عبدالمطلب جتنا ایمان بھی ان کے دلوں میں ہوتا تو یہ سمجھ لیتے کہ مکہ معظمہ کی حفاظت خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہوئی ہے انسان کے سپردنہیں کی۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ رسول کریم علی کی پیدائش سے کچھ مدت پہلے سینیا کی حکومت کی طرف سے یمن کے علاقہ پر ابرہہ نامی ایک گورنر مقرر تھا اُس نے چاہا کہ عربوں کو عیسائیت کی طرف کھینچنے کے لئے ان کی توجہ بیت اللہ کی طرف سے ہٹا دی جائے۔اس غرض کے لئے اس نے اپنی طرف سے بعض کوششیں کیں مگر جب ناکام ہوا تو اُسے خیال پیدا ہوا کہ اگر میں کعبہ کو گرا دوں تو شاید اس طرح لوگوں کی توجہ اس سے پھر جائے۔اس خیال کے آنے پر وہ اپنی فوجیں لے کر بیت اللہ کی طرف چل پڑا۔اُس وقت حبشہ کی طاقت بہت بڑھی ہوئی تھی۔موجودہ ایسے سینیا سے اس کا ملک بہت وسیع تھا اور حبشہ کی دولت بھی اُس وقت بہت زیادہ تھی کیونکہ یمن بہترین سرسبز مقامات میں سے ہے جو اس کے قبضہ میں تھا۔پس ابر ہہ اور اُس کی