سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 184

سيرة النبي علي 184 جلد 4 صلى الله نے اپنی طاقتوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دشمنوں کو نیچا دکھایا اور اُسی خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخالفین کو غرق کیا لیکن رسول کریم ﷺ کی مدد کرنے کے ہرگز یہ معنی نہیں تھے کہ حضرت موسیٰ ، حضرت عیسی اور دیگر انبیاء علیھم السلام کی خدا تعالیٰ نے مدد نہیں کی تھی۔اسی طرح مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت اور انہیں اپنے جلال کے اظہار کے لئے مخصوص کر لینے کے ہرگز یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اور مقام خدا تعالیٰ کا فضل جذب نہیں کر سکتا۔ہمارا خدا وسیع طاقتوں اور قدرتوں والا خدا ہے اُس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے اور اُس کی فوجیں انسانی شمار سے باہر ہیں۔وہ جس طرح ایک مقام کی حفاظت کر سکتا ہے اسی طرح دوسرے مقام کی بھی اپنی فوجوں سے محافظت کرسکتا ہے۔میں چھوٹا تھا کہ میں نے رؤیا دیکھا کہ ایک مصلی ہے جس پر میں نماز پڑھ کے بیٹھا ہوں اور میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ وہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی کی ہے اور اس کا نام منہاج الطالبین ہے یعنی خدا تعالیٰ تک پہنچنے والوں کا رستہ۔میں نے اس کتاب کو پڑھ کر رکھ دیا۔پھر یکدم خیال آیا کہ کتاب حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کو دینی ہے اس لئے میں اسے ڈھونڈنے لگا مگر وہ ملتی نہیں۔ہاں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک اور کتاب مل گئی۔اُس وقت میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ یعنی تیرے ربّ کے لشکروں کو سوائے اُس کے اور کوئی نہیں جانتا۔تو اللہ تعالیٰ کی فوجوں میں کوئی کمی نہیں۔اگر کم فوجیں ہوتیں تب تو کہا جا سکتا تھا کہ قادیان کو خدا تعالیٰ نے کیوں مکرم بنا دیا۔اگر تینوں مقدس مقامات پر نَعُوذُ باللہ بیک وقت حملہ ہو گیا تو وہ فوجیں کہاں سے آئیں گی جو ان سب کی حفاظت کریں گی۔پس اگر خدا تعالیٰ کی فوجیں محدود ہوتیں تب تو احرار کو فکر ہو سکتا تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو گیا تو اس کی حفاظت کی کیا صورت ہو گی ، مکہ معظمہ پر حملہ ہو گیا تو اُس کی حفاظت کی کیا صورت ہو گی اور