سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 182

سيرة النبي علي 182 جلد 4 کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں مگر خدا شاہد ہے خانہ کعبہ قادیان سے بدرجہا زیادہ محبوب ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ چاہتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ خدا وہ دن نہیں لاسکتا لیکن اگر خدانخواستہ کبھی وہ دن آئے کہ خانہ کعبہ بھی خطرہ میں ہو اور قادیان بھی خطرہ میں ہو اور دونوں میں سے ایک کو بچایا جاسکتا ہو تو ہم ایک منٹ بھی اس مسئلہ پر غور نہیں کریں گے کہ کس کو بچایا جائے بلکہ بغیر سوچے کہہ دیں گے کہ خانہ کعبہ کو بچانا ہمارا اولین فرض ہے پس قادیان کو ہمیں خدا تعالیٰ کے حوالے کر دینا چاہئے۔خود رسول کریم علیہ نے خانہ کعبہ کے بعد مدینہ کے لئے دعا کی اور کہا اے میرے رب! جیسے حضرت ابرا ہیم نے مکہ کے لئے برکت چاہی تھی میں تجھ سے مدینہ کے ناپوں اور پیمانوں میں برکت چاہتا ہوں اور جیسے وہاں ایک حصہ کو حرم قرار دیا گیا اسی طرح میں بھی مدینہ کے ایک حصہ کو حرم بنا تا ہوں اور جس طرح وہاں شکار اور فساد اور قتل و خون ریزی کی ممانعت ہے اسی طرح میں بھی مدینہ کے ایک علاقہ میں شکار ، فساد اور قتل و خون ریزی منع کرتا ہوں۔مگر کیا کوئی نادان کہہ سکتا ہے کہ یہ دعا مانگ کر رسول کریم ﷺ مکہ معظمہ کی ہتک کرنا چاہتے تھے ؟ مدینہ کو مکرم بنانے کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ مکہ معظمہ کی عزت کم ہے۔اسی طرح قادیان کو عزت دینے کے بھی ہر گز یہ معنی نہیں کہ ہمارے دلوں میں خانہ کعبہ یا مدینہ منورہ کی عزت نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ مکہ وہ مقدس مقام ہے جس میں وہ گھر ہے جسے خدا نے اپنا گھر قرار دیا اور مدینہ وہ بابرکت مقام ہے جس میں محمد ﷺ کا آخری گھر بنا ، جس کی گلیوں میں آپ چلے پھرے اور جس کی مسجد میں اس مقدس نبی نے جو سب نبیوں سے کامل نبی تھا اور سب نبیوں سے زیادہ خدا کا محبوب تھا نمازیں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔اور قادیان وہ مقدس مقام ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مقدسہ کا خدا تعالیٰ نے دوبارہ حضرت مرزا صاحب کی صورت میں نزول کیا۔یہ مقدس ہے باقی سب دنیا سے مگر تابع ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے۔پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ اگر صلى الله