سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 181
سيرة النبي علي 181 جلد 4 صلى الله صلى الله علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں ، حضرت موسی علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں ،حضرت عیسی علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں ، حضرت صالح علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں، حضرت ہود علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں، حضرت شعیب علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں اور پھر رسول کریم ﷺ کا بھی احترام کرتے ہیں۔کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا احترام کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ہم دوسرے انبیاء کی ہتک کرتے ہیں ؟ یا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیھما السلام کا احترام کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کی توہین کرتے ہیں ؟ فرض کرو اگر کوئی شخص سوال کرے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تمہارے زمانہ میں ہوں اور ان پر کوئی شخص حملہ کر دے تو کیا تم اپنی جان اور مال ان پر قربان کرو گے یا نہیں ؟ تو کیا غیر احمدی اس سوال کا یہ جواب دیں گے کہ ہم تو رسول کریم ﷺ پر اپنی جان قربان کرنے والے ہیں کسی اور کے لئے اگر جان قربان کر دیں گے تو رسول کریم ﷺ کی بہتک ہو جائے گی یا ہر مسلمان مجبور ہے یہ جواب دینے کے لئے کہ اگر بالفرض حضرت ابراہیم علیہ السلام دنیا میں ظاہر ہوں اور کوئی شخص اُن پر حملہ کرے تو وہ اپنی جان اور اپنا مال آپ پر قربان کر دے گا مگر کیا اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتا ہے؟ کیا وہ جو کہا کرتے ہیں کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ 2 وطن کی محبت ایمان کا ایک حجز و ہے ، جو کہا کرتے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے ہمیں اپنا سب کچھ قربان کر دینا چاہئے اُن کے اس قول کے یہ معنی ہوا کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ پر اگر کوئی حملہ کرے تو وہ اس کے بچانے کے لئے کوئی حرکت نہیں کریں گے؟ پھر کیا یہی بات ان کے متعلق نہیں کہی جاسکتی ؟ اگر ہندوستان سے اتنی محبت کرنے کے باوجود کہ وہ لوگ کہا کرتے ہیں جب تک انگریزوں کو ہندوستان سے نکال نہ دیا جائے تو ایمان قائم نہیں رہ سکتا ان کی مکہ معظمہ سے محبت رہ سکتی ہے ؟ تو قادیان سے محبت کا یہ نتیجہ کیونکر نکالا جا سکتا ہے کہ ہمیں مکہ معظمہ محبوب نہیں۔بے شک ہمیں قادیان محبوب ہے اور بے شک ہم قادیان