سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 180
سيرة النبي علي 180 جلد 4 دوسرا اتہام جو میں نے چند دن ہوئے سنا ہے وہ یہ ہے کہ منصوری میں احراریوں کا ایک جلسہ مولوی عطا اللہ شاہ صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مسٹر حسام الدین صاحب ایک احراری نے جماعت احمدیہ کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلاتے ہوئے کہا کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بھی بجا دی جائے تو مرزائی لوگ اس کی کوئی پرواہ نہ کریں گے بلکہ خوش ہوں گے۔اس کے جواب میں بھی میں کہتا ہوں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجانا تو الگ رہی ہم تو یہ بھی پسند نہیں کر سکتے کہ خانہ کعبہ کی کسی اینٹ کو کوئی شخص بدنیتی سے اپنی انگلی بھی لگائے اور ہمارے مکانات کھڑے رہیں۔جس طرح رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک صحابی کو جب کفار مکہ قتل کرنے لگے تو انہوں نے اُن صحابی سے پوچھا کہ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تم اس وقت مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہوتے اور محمد (ﷺ) کو تمہاری جگہ سزا دی جاتی۔اُس صحابی نے جواب دیا کہ تم تو یہ کہتے ہو کہ محمد ﷺ یہاں میری جگہ ہوں اور میں مدینہ میں آرام سے بیٹھا ہوں میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ہوں اور محمد ی ﷺ کو مدینہ کی گلیوں میں چلتے ہوئے کوئی کانٹا چھ جائے 1۔اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ ہمیں تو یہ بھی پسند نہیں کہ خانہ کعبہ کی طرف کوئی بدنیت انگلی بھی اٹھائے اور ہمارے مکان کھڑے رہیں۔گجا یہ کہ ہم خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجتی دیکھیں اور خوش ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم قادیان کا احترام کرتے ہیں مگر کیا ایک چیز کے احترام کرنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ہم دوسری چیز کا احترام نہیں کرتے۔کیا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کا احترام کرتا ہے اُس کے احترام کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ رسول کریم ﷺ کا احترام نہیں کرتا۔یا جو شخص رسول کریم ﷺ کا احترام کرتا ہو اُس کے احترام کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا احترام نہیں کرتا۔الله صلى الله ہزار ہا چیزیں دنیا میں ایسی ہیں جن کا ہم احترام کرتے ہیں ، ہم حضرت ابرا