سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 174
سيرة النبي علي 174 جلد 4 آدمی نے آپ کو اطلاع دے دی۔اگر یہ ہو تو بھی دشمن کے ذریعہ سے پتہ لگنا ایک نشانِ الہی ہے۔غرض آپ نے واپس آ کر صحابہ سے فرمایا کہ اس مکان کی چھت کو جا کر دیکھو اور جب وہ گئے تو وہاں چکی کا پاٹ پڑا ہوا پایا۔پھر آپ ایک غزوہ سے واپس آرہے تھے ایک دشمن نے قسم کھائی کہ میں ضرور راستہ میں آپ کو مار دوں گا۔راستہ میں ایک جنگل میں آپ ٹھہرے اور صحابہ اس خیال سے کہ یہاں کسی دشمن کا گزر کس طرح ہوسکتا ہے اِدھر اُدھر چلے گئے۔آپ اکیلے ایک درخت کے نیچے سورہے تھے کہ اُس دشمن نے آپ کی تلوار جو درخت سے لٹک رہی تھی اتار لی اور کہا اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا خدا 6۔اتنا کہنا تھا کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور آپ نے اُسے اٹھا کر اس سے پوچھا کہ اب بتا تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ آپ کا خیال تھا کہ اس نے مجھ سے سن کر سبق حاصل کر لیا ہو گا اور یہی جواب دے گا مگر اس کی حالت اُس وقت ایسی گندی تھی کہ پھر بھی اسے سمجھ نہ آئی اور اس نے یہی کہا کہ آپ ہی رحم کریں تو کریں۔آپ نے فرمایا ابھی میں نے تمہیں سبق دیا تھا مگر پھر بھی تم نے اللہ کا نام نہیں لیا۔جاؤ میں تم کو چھوڑتا ہوں۔۔پھر احد کی جنگ میں دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا مگر اللہ تعالی نے آپ کو بچا لیا۔اس قسم کے بہت سے واقعات آپ کی زندگی میں پائے جاتے ہیں۔آپ غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما بتایا کہ بعض منافق رستہ میں جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔انہوں نے خیال کیا تھا کہ جنگل ہے اور رات کے اندھیرے میں ہم آپ کو مار دیں گے کسی کو علم بھی نہ ہو سکے گا اور اسی لئے وہ علیحدہ ہو کر وہاں جا چھپے تھے۔آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ وہاں ان کی تلاش کرو چنانچہ وہ پکڑے گئے اور ان کو اقرار کرنا پڑا 8۔اور یہ مخالفت کا طوفان ابتدا سے ہی موجود تھا لیکن ادھر مخالفوں کی اس قدر کثرت اور آپ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرنا اور