سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 173
سيرة النبي عمال 173 جلد 4 دے دیا۔بعد میں اس کے ساتھیوں نے اسے شرمندہ کیا کہ تم تو دوسروں کو تلقین کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کا روپیہ کسی نے دینا ہو تو نہ دے مگر خود محمد ﷺ کے آنے پر فوراً لا کر ادا کر دیا۔ابو جہل نے کہا میں کیا کرتا میں نے جب دروازہ کھولا تو یوں معلوم ہوا کہ دو بڑے بڑے مست اونٹ آپ کے دائیں بائیں کھڑے ہیں اور اگر میں نے ذرا بھی گستاخی کی تو مجھے کھا جائیں گے 1۔اب یہ سامان خدا کی طرف سے ہی تھا ورنہ وہاں وحشی اونٹ کہاں سے آنے تھے۔اللہ تعالیٰ نے کشفی رنگ میں اسے فرشتے دکھا دیئے کہ دیکھ لو یہ ہمارے سپاہی ہیں تم ذرا بولے تو یہ تمہارا ٹینٹوا2 دبا دیں گے۔پس ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی۔پھر آپ کو مدینہ میں لایا اور تھوڑے تھوڑے لشکروں کے ساتھ آپ کو فتوحات دیں۔پھر آپ کی زندگی میں ایسے واقعات بھی بہت سے ہیں کہ بالکل غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔جب آپ غار ثور میں تھے تو دشمن بالکل سر پر پہنچ گیا اور حضرت ابو بکر گھبرا گئے صلى الله کہ رسول کریم ﷺے اس کی نظر سے بچ نہیں سکیں گے اُس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو م کیا کہ گھبراہٹ کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور دشمن سر پر پہنچ کر نا کام واپس لوٹ گیا 3۔ایک یہودن نے آپ کو کھانے میں زہر دے دیا اور آپ نے ایک لقمہ اٹھا کر منہ میں بھی ڈال لیا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا اور آپ نے اسے پھینک دیا 4 اب یہ بالکل غیر معمولی بات ہے عام بادشاہوں کو اس کا کسی طرح علم نہیں وسکتا۔یہ تو ممکن ہے کہ زہر تھوڑا کھا ئیں اور بچ جائیں لیکن یہ نہیں کہ لقمہ منہ میں ڈالتے ہی علم ہو جائے۔پھر ایک دفعہ یہود نے آپ کو ایک فیصلہ کرنے کے بہانہ سے بلایا اور ایسا انتظام کر دیا کہ اوپر سے بڑا سا پھر گرا کر آپ کو بلاک کر دیا جائے لیکن اللہ تعالی نے آپ کو الہاما بتا دیا اور آپ بات کرتے کرتے اٹھ کر آگئے 5۔بعض روایات میں ہے کہ کسی