سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 172
سيرة النبي عمال 172 جلد 4 کے ساتھ اور دوسری دوسرے سے باندھ کر اور اونٹوں کو مختلف سمتوں میں چلا کر چیر دیا گیا تھا۔یہ وہ وقت تھا کہ جب مسلمانوں کو قطعاً کوئی طاقت حاصل نہ تھی کہ سمجھ لیا جائے مکہ والے مسلمانوں کی طاقت سے گھبرا گئے تھے بلکہ اس وقت مسلمان ایسے کمزور تھے کہ کفار یکدم حملہ کر کے ان سب کو مار سکتے تھے مگر باوجو دسب تدابیر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی سامان ایسا ضرور ہو جاتا تھا کہ وہ ایسا نہ کر سکتے اور ڈر جاتے تھے۔بسا اوقات ایسا ہوا کہ وہ مجالس میں بیٹھے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو مار دیا جائے مگر ان میں سے کوئی شدید دشمن کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مار دینے کے متعلق تو مجھے اتفاق ہے مگر یہ طریق جو تجویز کیا گیا ہے میں اس کی حمایت نہیں کرتا اور بس اسی میں بات رہ گئی۔غرض اللہ تعالیٰ کوئی غیر معمولی سامان ایسے کر دیتا کہ انہیں حملہ کا موقع ہی نہ مل سکا اور اگر کسی نے کیا بھی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ وہ خود ہی ڈر گیا اور خوفزدہ ہو کر رہ گیا۔رسول کریم ﷺ ایک معاہدہ میں شریک ہوئے تھے جس کا مقصد یہ تھا کہ مظلوموں کی مدد کی جائے۔ایک شخص نے ابو جہل سے روپیہ لینا تھا وہ کسی گاؤں کا رہنے والا تھا بار بار آتا مگر ابو جہل انکار کر دیتا اور وہ پھر واپس چلا جاتا۔وہ باری باری ان سب لوگوں کے پاس گیا جو اس معاہدہ میں شریک تھے مگر کسی نے اس کی حمایت کا دم نہ بھرا بلکہ سب نے یہی کہہ دیا کہ ابو جہل اتنا بڑا رئیس ہے اسے کون کچھ کہہ سکتا ہے۔آخر وہ شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا۔آپ نے فرمایا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں اور اُس مخالفت کے زمانہ میں جب کفار نے آپ کو مارنے کے لئے قسمیں کھائی ہوئی تھیں آپ اس کے ساتھ ابوجہل کے مکان پر تشریف لے گئے۔دروازہ پر پہنچ کر دستک دی ابو جہل باہر آیا اور آپ کو اپنے دروازہ پر دیکھ کر اس کا رنگ فق ہو گیا۔اس نے گھبرا کر پو چھا کہ آپ کیسے آئے ہیں؟ آپ نے اس شخص کو آگے کیا اور پوچھا کہ کیا آپ نے اس کا روپیہ دینا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا پھر دے دو۔وہ فوراً اندر گیا اور لا کر روپیہ