سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 171
سيرة النبي علي 171 جلد 4 رسول کریم علیہ کی خطرناک مخالفت اور نصرت الہی وو صلى الله حضرت مصلح موعود 23 اگست 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم یہ تیرہ سال تک ایسے علاقہ میں رہے جہاں کا ہر شخص مسلمان کا قتل واجب اور ضروری سمجھتا تھا اور اسے ثواب کا فعل قرار دیتا تھا اور مسلمانوں کی تعداد اس قدر قلیل تھی کہ گویا قریباً ایک ہزار کے مقابل پر ایک مسلمان تھا۔معتبر روایات سے ثابت ہے کہ مکہ میں ہجرت کے وقت تک 82 ،83 صحابہ ہی تھے اور مکہ سے جولشکر مسلمانوں کے ساتھ لڑائیاں کرنے کے لئے نکلتے رہے ہیں اس سے کفار کی طاقت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔مہذب قوموں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ ان میں سے سو میں سے چھ سپاہی مل سکتے ہیں اور اگر بڑا زور دیا جائے تو دس۔اور جو اقوام مہذب نہیں وہ عام حالات میں سولہ اور خاص حالات میں 20 ،22 فیصدی سپاہی دے سکتی الله ہیں۔رسول کریم ﷺ کے مقابل پر جو لشکر آتے رہے ہیں ان میں مکہ کے سپاہی ہزار باره سو تک ہوتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور گردونواح کی آبادی دس بارہ ہزار ضرور تھی اور ان کے مقابل پر مسلمان ابتدا میں تو دو تین ہی اور آخر پر 83،82 تھے۔رسول کریم ﷺ کی مخالفت ابتدا سے ہی تھی۔جب آپ نے دعویٰ کیا اُسی وقت کفار نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آپ زندہ رکھے جانے کے قابل نہیں۔جو عذاب صحابہؓ کو دیئے جاتے تھے ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے دئیے جاتے تھے، جب آپ کے ساتھیوں کی تعداد 23، 24 سے زیادہ نہ تھی اُس وقت بھی بعض عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور ایک مرد کی ایک ٹانگ ایک اونٹ الله