سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 165

سيرة النبي علي 165 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی تکالیف اور نصرت الہی حضرت مصلح موعود رسول کریم ﷺ کی تکالیف کا تذکرہ کرتے ہوئے 19 جولائی 1935ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔وو پھر ایک ایسی قوم کے متعلق جسے رسول کریم ﷺ کی تعلیم پہنچی ہو، جو اپنے آپ کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرتی ہو اور جس کے کانوں میں خدا کی آواز پڑتی ہو کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ نیک اور شریف لوگوں سے خالی ہے۔بعض اوقات ظلم اپنی کثرت کی وجہ سے خود بخود توجہ کو کھینچنے کا موجب ہو جاتا ہے۔لوگ ایک وقت تک ظلم کو دیکھتے ہیں بلکہ اس میں شریک بھی ہو جاتے ہیں اور بعض شریک تو نہیں ہوتے مگر بے پرواہ ہو کر ایک طرف بیٹھے رہتے ہیں۔مگر ظلم جب حد کو پہنچ جائے تو ان کی فطرت جوش میں آ جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس سے زیادہ ظلم برداشت نہیں کیا جا سکتا اور وہ لوگ ظالموں سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تمہیں شریف اور جائز کارروائیاں کرنے والا سمجھا تھا مگر اب معلوم ہوا کہ تم برے لوگ ہو۔غالب نے کہا ہے کہ :۔سے درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا جب درد حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ بھی ایک علاج ہو جاتا ہے۔کئی بیمار اس طرح تباہ ہو جاتے ہیں کہ ان کو بیماری کی ابتدا میں تکلیف زیادہ نہیں ہوتی اس لئے وہ علاج کی طرف توجہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرض لا علاج صورت اختیار کر لیتا ہے۔پھر کئی بیمار اس طرح اچھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں ابتدا میں ہی زیادہ تکلیف ہونے