سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 164

سيرة النبي علي 164 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی سیرت کا ایک اہم واقعہ دو حضرت مصلح موعود 19 جولائی 1935 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔شریعت خود حفاظتی کی اجازت دیتی ہے یہ نہیں کہتی کہ اگر کوئی حملہ کرے تو اُس وقت اپنے آپ کو اس کے حملہ سے نہ بچایا جائے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کا ایک اپنا واقعہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔ایک دفعہ آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے ، آپ کی ایک بیوی نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! ابھی ایک شخص کو میں نے دیکھا وہ سوراخ میں سے ہمارے گھر میں جھانک رہا تھا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے پہلے کیوں نہ بتایا میں نیزے سے اس کی آنکھ پھوڑ دیتا 1۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود حفاظتی جائز ہے مگر یہ خود حفاظتی اس وقت جائز ہوتی ہے جب کوئی شخص حملہ کر رہا ہو۔اگر چلا گیا ہو تو پھر اس کے پیچھے بھاگ کر اس پر حملہ کرنا جائز نہیں کیونکہ اگر بعد میں بھی حملہ جائز ہوتا تو رسول کریم ﷺ یہ نہ فرماتے کہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتا یا ورنہ میں اس کی آنکھ پھوڑ دیتا۔آپ بعد میں بھی اس کی آنکھ پھوڑ سکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہ کیا۔“ الفضل 25 جولائی 1935 ء ) :1 مسلم كتاب الآداب باب تحريم النظر في بيت غيره صفحه 960 حدیث نمبر 5638 مطبوعہ ریاض 2000 ء الطبعة الثانية