سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 163
سيرة النبي علي 163 جلد 4 کرتے ہیں ( ہم اس کے خلاف کہتے اور ان باتوں کا انکار کرتے ہیں ) تو ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی دادیوں اور نانیوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔یہ ہے ان کی غیرت کا حال۔پھر وہ امہات المؤمنین کو گالیاں دیتے ہیں اور آیت اِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا 1 کے یہ معنی کرتے ہیں کہ رسول کریم کی بیویوں سے کہا گیا ہے تمہیں تو بہ کرنی چاہئے ، تمہارے دل گندے ہو چکے ہیں۔ان کی تفسیروں میں لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی بیویوں کے دل گندے ہو گئے تھے 2 لیکن ہم لوگ ان معنوں کے منکر ہیں۔ہمارے نزدیک اُمہات المؤمنین پاکباز ، پاک شعار اور تقویٰ کی اعلیٰ راہوں پر چلنے والی ہماری مقدس مائیں تھیں اور اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ اے ہمارے پیغمبر کی بیویو! اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو تو یہ فعل تمہارے مقام کے عین شایانِ شان ہے کیونکہ تمہارے دل تو پہلے سے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف جھک رہے ہیں۔مگر باوجود اس کے یہ لوگ ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ع کی ہتک کرتے ہیں۔“ 1: التحريم: 5 الفضل 20 جنوری 1935ء) 2: جامع البيان تالیف ابی جعفر محمد بن جرير الطبرى الجزء الثامن والعشرون صفحہ 161 مطبع مصطفى البابي الحلبى مصر 1954ء