سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 162

سيرة النبي عمر 162 جلد 4 اس وقت بھی وہ ہماری دشمنی کی وجہ سے ان کی خوشامد میں کر رہے ہیں۔غرض ہم اپنی جانیں دے کر اور اپنے مال قربان کر کے رسول کریم عملے کی عزت بچا رہے ہیں۔مگر انہوں نے کیا کیا ہے؟ یہی نا کہ کچھ ہندو مار ڈالے اور اس طرح اسلام کو بدنام کر دیا۔یہ اسلام کو دنیا کی نظروں میں بدنام کرنے والے اور رسول کریم ﷺ سے دنیا کو تنفر کرنے والے آپ کے خیر خواہ لیکن لاکھوں روپیہ اسلام کی اشاعت کے لئے خرچ کرنے والی اور ہزاروں آدمیوں کے ذریعہ رسول کریم ے کی خوبیاں دنیا میں پیش کرنے والی جماعت آپ کی دشمن ہو گئی۔ہم نہ صرف ہندوستان میں بلکہ یورپ، افریقہ اور امریکہ میں رسول کریم علیہ کو گالیاں دینے والوں کو مسلمان بنا رہے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ایک نو مسلم نے مجھے لکھا کہ میں پہلے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو گالیاں دیا کرتا تھا مگر اب آپ کے مبلغ۔غ کے ذریعہ مجھ پر یہ اثر ہوا ہے کہ میں اُس وقت تک نہیں سوتا جب تک رسول کریم ﷺ پر درود نہ بھیج لوں۔کیا یہی وہ ہتک ہے جو ہم رسول کریم ﷺ کی کر رہے ہیں؟ عاوسم پھر ہم پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی دادیوں اور نانیوں کی ہتک کرتے ہیں مگر اس الزام کے لگانے والوں کو یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک حدیث پیش کیا کرتے ہیں کہ کوئی مولود نہیں خواہ مرد ہو خواہ عورت جسے شیطان نے نہ چھوا ہو سوائے حضرت عیسی اور ان کی ماں کے۔کیا ان کے اس حدیث کو پیش کرنے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی والدہ اور والد اور خود رسول کریم پر اس طرح حملہ کرتے ہیں؟ اسی طرح وہ حضرت ابراہیم ، حضرت یعقوب ، حضرت اسحاق اور دوسرے انبیاء کو بھی انہی میں شامل کر رہے ہیں جن کو شیطان نے چُھوا۔یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر یہ کہتے ہوئے تو ذرا نہیں شرماتے کہ رسول کریم ہے کے باپ دادے اور آپ کی دادیاں نانیاں سب کو شیطان نے چھوا۔مگر جب مسیحی لوگ ان کی ان باتوں سے فائدہ اٹھا کر حضرت مسیح کی نبی کریم ﷺ پر فضیلت ثابت صلى الله صلى الله