سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 3

سيرة النبي علي 3 جلد 4 ایسے امراض سے نجات پاسکتے ہیں جن کا علاج آج سے دوسو سال پہلے بالکل ناممکن خیال کیا جاتا تھا یا ایسا مشکل تھا کہ بہت کم مریض اس سے بکلی شفا پاتے تھے۔کزاز کا مریض جس سختی اور شدت بعض شدید امراض اور ان کا علاج سے جان تو ڑا کرتا تھا اُس کو دیکھ کر بہتوں کے دل ہل جاتے تھے۔موت کو چھوڑ کر اُس مریض کی تکلیف ہی ایسی ہوتی تھی کہ اس کے رشتہ دار ا سے بھی غنیمت سمجھتے کہ مریض آرام کے ساتھ مر سکے لیکن تریاق کزاز ٹیکا کی ایجاد سے اگر مرض شروع ہوتے ہی ٹیکا کر دیا جائے تو ایک معقول تعداد میں مریضوں کی جان بچ جاتی ہے اور اگر امکانِ زہر ہی کی حالت میں اثر کے ظاہر ہونے سے پہلے ٹیکا کر دیا جائے تو قریباً سب کے سب آدمی اس مرض کے حملہ سے بچ جاتے ہیں اور اس کے علاج میں اس ترقی کو دیکھ کر آئندہ کے لئے ہمارا کامل علاج کے نکلنے کی امید کرنا خلاف عقل نہیں ہے۔خناق کا مرض بھی نہایت خطرناک مرض ہے اور نہایت ہی مُہلک ثابت ہوتا رہا ہے اور چونکہ اس میں گلے کے اندر ایک زائد جھلی پیدا ہو جاتی ہے اور سانس رکنے لگ جاتا ہے اس مریض کی حالت بھی نہایت قابل رحم ہوتی ہے اور چند گھنٹوں کے اندر ہی مریض کی حالت یاس کی ہو جاتی ہے اور نہایت دکھ سے سانس رک رک کر مر جاتا ہے۔یہ مرض بھی لاعلاج ہی سمجھا جاتا تھا اور اگر اس مرض کے بیمار ا چھے ہوتے تھے تو اس قدر علاج کا اثر نہیں سمجھا جاتا تھا جس قدر کہ طبیعت کی طاقت مقابلہ کا۔لیکن تریاق خناق ٹیکا کے نکلنے سے اس مرض کے علاج میں بھی بہت سہولت پیدا ہو گئی ہے اور ایک معقول تعداد میں مریضوں کی جان بچ جاتی ہے۔ہلکے کتے کے کاٹنے کے نتائج سے بالعموم لوگ واقف ہیں اس زہر کا علاج بھی دنیا کو اس سے پہلے معلوم نہ تھا اور جو کچھ علاج کیا جاتا تھا وہ یقینی نہ ہوتا تھا اور علاج کہلانے کا مستحق نہ تھا۔مگر اب پسٹیور طریق علاج سے ہزاروں جانیں ہر سال اس