سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 153

سيرة النبي علي 153 جلد 4 صحابہ رسول کی فدائیت اور قربانیاں حضرت مصلح موعود نے 23 نومبر 1934 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔”جب رسول کریم علی اللہ محفوظ ہو گئے اور کفار بھاگ گئے تو مسلمانوں نے لاشوں کا معائنہ کیا کہ دیکھیں کون کون شہید ہوا ہے۔ایک انصاری اپنے کسی رشتہ دار کی تلاش میں تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک صحابی 1 زخمی پڑے ہیں اور ان کی ٹانگیں کٹی ہوئی ہیں وہ اس کے پاس پہنچے اور کہا بھائی ! تمہاری حالت خطر ناک ہے اپنے متعلقین کو کوئی پیغام دینا ہو تو دے دو۔انہوں نے کہا ہاں میں منتظر ہی تھا کہ کوئی اس طرف آئے تو میں اسے پیغام دوں۔میرا رشتہ داروں کو یہ پیغام ہے کہ اے عزیزو! ہم نے جب تک زندہ تھے رسول کریم ﷺ کی جو ہمارے پاس خدا تعالیٰ کی ایک امانت ہیں اپنی جانوں سے حفاظت کی۔اب ہم جاتے ہیں اور یہ امانت تمہارے سپرد ہے تمہارا فرض ہے کہ اپنے مال و جان سے اس کی حفاظت کرو۔اس کے سوا نہ کسی کو سلام دیا نہ کوئی پیغام بلکہ یہی کہا کہ میرے رشتہ داروں سے کہنا کہ جس رستہ سے میں آیا ہوں اسی سے تم بھی آؤ۔تو یہ قربانیاں ہیں جو صحابہ کرام نے کیں۔مگر ان کے باوجود الله رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اے دوستو ! ان قربانیوں کو کچھ نہ سمجھو تم سے پہلے کچھ لوگ گزرے ہیں جن کو آروں سے چیرا گیا اور جن کو آگ میں جلایا گیا محض اس وجہ سے کہ وہ خدا پر کیوں ایمان لائے 2 تمہاری قربانیاں ان کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔اصل بات یہ ہے کہ قربانی کرنا مشکل نہیں ایمان لانا مشکل ہے۔“ ( الفضل 25 نومبر 1934ء ) 66