سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 152
سيرة النبي متر 152 جلد 4 الله يَا رَسُولَ الله ! ہم تو کہہ چکے یہ ایک نادان نوجوان کا فعل ہے ہم اس سے بیزار ہیں۔رسول کریم ﷺ نے پھر ان کی بات کی طرف کوئی دھیان نہ دیا اور فرمایا اے الله انصار ! تم ایک اور بات بھی کہہ سکتے تھے اور وہ یہ کہ خدا نے محمد (ﷺ) کو مکہ میں پیدا کیا مگر مدینہ والوں کی قربانیاں خدا تعالیٰ کو کچھ ایسی پسند آئیں کہ وہ اپنے خاتم النبین کو مکہ سے اٹھا کر مدینہ میں لے آیا۔پھر مدینہ والوں کی قربانیوں کو خدا تعالیٰ نے نوازا اور انہیں تو فیق دی کہ وہ اس کے وعدوں کے پورا کرنے والوں میں شامل ہوئے اور جب خدا تعالیٰ نے خاص اپنی طاقتوں اور بے انتہا قدرتوں کے نتیجہ میں ملک عرب کو اس کے رسول کے تابع کر دیا اور مکہ جس میں سے اسے نکالا گیا تھا فتح ہو گیا تو مکہ والے تو اونٹ اور بھیڑیں ہانک کر لے گئے مگر مدینہ کے لوگ خدا کے رسول کو اپنے گھر لے آئے۔انصار نے پھر روتے ہوئے کہا یا رسول اللہ ! جو کچھ ہوا وہ ہمارے ایک بیوقوف نوجوان کا قول تھا ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔آپ نے فرمایا جو کچھ ہونا تھا ہو چکا۔اس ایک نادان کے قول کی وجہ سے اب تم دنیا کی بادشاہت سے ہمیشہ کے لئے محروم رہو گے تم نے جو کچھ لینا ہے وہ مجھ سے حوض کوثر پر آکر لینا 2۔تیرہ سو برس گزر گئے اس واقعہ کے بعد عرب حاکم ہوئے ، مصری حاکم ہوئے ، سپینش نسل کے لوگ حاکم ہوئے ، مورش حاکم ہوئے ، پٹھان حاکم ہوئے ، مغل حاکم ہوئے مگر رسول کریم ے کے گرد جانیں قربان کرنے والے انصار کسی چھوٹی سی ریاست کے مالک بھی نہ ( الفضل 22 نومبر 1934 ء ) بن سکے۔“ 1 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثاني صفحه 1240 مطبوعہ دمشق 2005 ء صلى الله 2:بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبى الله يعطى المؤلفة قلوبهم صفحه 523 حدیث نمبر 3147 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية