سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 151

سيرة النبي عليه 151 جلد 4 آواز بہت بلند تھی کہا عباس! زور سے آواز دو کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔آپ نے اس موقع پر مہاجرین کو نہیں پکا را بلکہ انصار کو پکارا۔انصار خود کہتے ہیں جب ان کے کانوں میں یہ آواز پہنچی کہ اے انصار ! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو انہیں یوں معلوم ہوا کہ صور اسرافیل پھونکا جارہا ہے اور قیامت کا دن آ گیا ہے۔جو شخص اپنی سواری کو موڑ سکا وہ اپنی سواری کو دوڑاتے ہوئے اور جس کی سواری نہ مرسکی اس نے تلوار سے اس کی گردن اڑاتے ہوئے تیزی سے رسول کریم ﷺ کی طرف بڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ چند منٹ میں ہی میدان صحابہ سے بھر گیا اور مسلمانوں کی شکست فتح میں تبدیل ہوگئی 1۔یہ فتح جو ہوازن کے مقابلہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوئی خصوصیت سے انصار کی فتح تھی مگر جب ایک بیوقوف نوجوان نے یہ الفاظ کہے کہ خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے مگر ریوڑ مکہ والے لے گئے تو رسول کریم ﷺ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار ! مجھے تمہاری طرف سے یہ بات پہنچی ہے۔انصار رو پڑے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں یہ ایک نادان نوجوان کے منہ کے الفاظ ہیں۔رسول کریم ﷺ نے ان کی اس بات کی طرف کوئی دھیان نہ دیا اور فرمایا تم کہہ سکتے تھے کہ محمد (ﷺ ) اکیلا تھا، اس کی قوم نے اسے رد کر دیا، اس کے وطن والوں نے اسے اپنے گھر سے نکال دیا، اس کی تکذیب کی ، اس کی تکفیر کی اور اس کے قتل کا ارادہ کیا مگر ہم گئے اور اسے اپنے وطن میں لائے ، اپنی عزتیں اس پر قربان کیں ، اپنی جانیں اس پر فدا کیں اور جب لڑائی ہوئی تو اس کے دائیں بھی لڑے اور بائیں بھی ، آگے بھی لڑے اور پیچھے بھی یہاں تک کہ اس کے بھائیوں سے لڑ کر وہ شہر جس میں سے اسے نکالا گیا تھا فتح کیا اور اس کے لئے جانی اور مالی ہر رنگ کی قربانی کی مگر جب مال دینے کا وقت آیا تو اس نے اپنے رشتہ داروں اور وطن والوں کو تو مال دے دیا مگر ہمیں یاد نہ رکھا۔انصار ایسی مخلص جماعت بھلا اس کو کب برداشت کر سکتی تھی۔ان کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور انہوں نے کہا