سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 150

سيرة النبي علي 150 جلد 4 رسول کریم علیہ پر اعتراض کا بھیانک نتیجہ حضرت مصلح موعود نے 16 نومبر 1934 ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا:۔” جب رسول کریم ﷺ نے ہوازن پر فتح پائی تو مال غنیمت میں ان کے بہت صلى الله سے گلے اور ریوڑ بھی آئے۔مکہ کے نومسلموں کے متعلق رسول کریم ع چاہتے تھے کہ ان کے دلوں کو محبت اور پیار سے اسلام کی طرف مائل رکھیں۔دوسرے اس لئے کہ مکہ والے سمجھتے تھے کہ شاید مسلمان ہماری پرانی مخالفت کی وجہ سے دل میں ہم سے بغض رکھتے ہیں رسول کریم ﷺ نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ ہم پرانی مخالفتوں کو یاد نہیں رکھتے بلکہ بھلا دیا کرتے ہیں ریوڑوں کے ریوڑ ان میں تقسیم کر دیئے۔اس پر انصار میں سے ایک نوجوان جو اس حکمت کو نہیں سمجھتا تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا تلواروں سے تو ہماری خون ٹپکتا ہے مگر جب ہم نے جانیں قربان کر کے فتح حاصل کی تو مال مکہ والے لے گئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہوازن کے معرکہ میں سب سے زیادہ قربانی انصار نے ہی کی تھی۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ جنگ حنین میں کفار کے مقابلہ میں ان نو مسلموں کی وجہ سے جو صحابہؓ کے ساتھ جنگ میں شامل ہو گئے تھے اور کچھ ان کفار کی وجہ سے جو مسلمانوں کی طرف سے ہو کر لڑے ان میں بھا گڑ پڑ گئی اور وہ میدان جنگ سے بھاگ نکلے یہاں تک کہ صرف بارہ آدمی رسول کریم ﷺ کے پاس رہ گئے۔اُس وقت ہوازن کے چار ہزار تجربہ کار تیرانداز مسلمانوں پر تیروں کی بارش برسا رہے تھے اور مسلمانوں کے گھوڑے اور ان کے اونٹ بے تحاشا بھاگے جار ہے تھے۔رسول کریم ﷺ نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ نے حضرت عباس سے جن کی۔