سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 144

سيرة النبي علي 144 جلد 4 جنگ حنین میں رسول کریم کی بہادری اور قوت قدسیہ کا مظاہرہ حضرت مصلح موعود نے یکم جون 1934 ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا :۔غزوہ حنین کے موقع پر کچھ ایسے لوگ مسلمانوں میں شامل ہوگئے تھے جو در حقیقت مسلمان نہیں تھے یا ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔فتح مکہ کے بعد جبکہ ثقیف اور ہوازن وغیرہ سے طائف کے قریب مقابلہ ہوا تو اُس وقت مکہ کے ان لوگوں نے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے خواہش ظاہر کی کہ انہیں بھی جنگ کرنے والوں میں شامل کیا جائے۔بعض غیر مسلم بھی مسلمانوں کے زیر اثر ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔چونکہ نئے مسلمان وہ اخلاص نہیں رکھتے تھے جو خدا تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کو جذب کر سکتا ہے اور کافر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤید ہونے کے مقام سے بہت دور ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ یہ کہتے ہوئے گئے کہ آج ہم میدان جنگ میں اپنی بہادری دکھائیں گے اور بتلائیں گے کہ جرأت کسے کہتے ہیں ان بہادروں نے یہ کیا کہ جب ثقیف اور ہوازن کے تیراندازوں نے مسلمانوں کے لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ ڈالی تو ان کے گھوڑے اور اونٹ وغیرہ بدکنے لگے اور ڈرکر پیچھے کی طرف بھاگے۔لازمی طور پر اس کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی صفیں ٹوٹ جائیں چنانچہ تمام صفیں ٹوٹ گئیں۔صحابہ کے اونٹ اور گھوڑے بھی ڈر کے مارے میدان جنگ سے بھاگ نکلے اور میدان خالی ہونا شروع ہو گیا یہاں تک کہ صرف بارہ