سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 136
سيرة النبي عمار 136 جلد 4 بعد کوئی مرے یا جئے ہمیں کیا ، ہمیں تو تیری زندگی کی پرواہ تھی۔یہ واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے معا بعد ہوا جسے کوئی مسلمان سوائے اس کے کہ اس کی آنکھیں پُر نم ہو جائیں اور آواز کانپنے لگے، پڑھ یا سن نہیں سکتا۔اگر صحابہ کا عقیدہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور پھر آئیں گے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ کیوں کہتے کہ آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر گئے ہیں۔انہیں تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ جس طرح حضرت عیسی آسمان پر گئے تھے آپ بھی گئے ہیں۔پھر حضرت ابو بکر اس آیت سے استنباط کرتے ہیں جس میں یہ ذکر ہے کہ سب رسول فوت ہو چکے ہیں اگر صحابہ میں کوئی شخص حضرت عیسی کے آسمان پر جانے کا عقیدہ رکھنے والا ہوتا تو وہ کھڑا ہو کر اُس وقت یہ نہ کہتا کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ آسمان پر رہنا شرک نہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آسمان پر جانے سے شرک کیونکر لازم آ سکتا ہے؟ مگر اُس وقت سب خاموش رہتے ہیں اور کوئی کچھ نہیں کہتا جو ثبوت ہے اس بات کا کہ اس عقیدہ کا کوئی بھی شخص ان میں نہ تھا۔صل الله رسول کریم ﷺ منبع ہدایت ہیں دوسری چیز جو اس ضمن میں میں پیش کرتا ہوں یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ مَنَ الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان کیا۔ہر شخص جو مومن کہلانا چاہتا ہے غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک رسول بھیجا، وہ اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، پاک کرتا ہے، کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگر چہ سب کے سب پہلے گمراہ تھے۔پہلی بات جو اس آیت میں بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اور اس کے بعد ہر شخص ایمان آپ سے حاصل کرے گا۔دوسری یہ کہ آپ سے ایمان حاصل کرنے سے پہلے وہ