سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 135
سيرة النبي عمال 135 جلد 4 اُس وقت مدینہ میں نہ تھے بلکہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔بعض صحابہ نے آپ کے پیچھے آدمی دوڑائے کہ جلدی آئیے اسلام میں ایک فتنہ پیدا ہونے لگا ہے۔چنانچہ آپ آئے اور سیدھے اندر چلے گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک تھا۔حضرت ابو بکر نے آپ کے منہ سے چادر اٹھائی ، جھکے، پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔پھر آپ باہر آ کر کھڑے ہوئے اور آیت کریمہ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ 2 تلاوت کر کے فرمایا اے مسلمانو! محمد اللہ تعالیٰ کے رسول تھے خدا نہیں تھے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول ہوئے وہ سب فوت ہو چکے ہیں اگر آپ فوت یا قتل ہو جائیں تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ پھر فرمایا مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّداً قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ : یعنی جو شخص محمد صلى الله علیہ و آلہ وسلم کو پوجتا تھا وہ کجھ لے کہ آپ فوت ہو چکے ہیں اور جو خدا کی پرستش کرتا تھا وہ مطمئن رہے کہ خدا ہمیشہ زندہ ہے۔حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے یقین ہو گیا کہ میری غلطی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی فوت ہو گئے ہیں۔اس پر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلنے لگی اور میں گر پڑا 4۔دوسرے صحابہؓ بھی بیان کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ہمارے پاؤں تلے سے زمین نکلی جارہی ہے۔وہ بے تحاشا مدینہ کی گلیوں میں دیوانہ وار بھاگے پھرتے اور حضرت حستان کے یہ شعر پڑھتے تھے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر انہوں نے بے اختیار کہے تھے۔كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُةِ یعنی تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔تیری موت سے میری آنکھیں اندھی ہو گئیں اب تیرے