سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 119

سيرة النبي علي 119 جلد 4 ہلاکت ہے۔بوعلی سینا نے کہا تمہیں یاد ہے تم نے مجھے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل بتایا تھا مگر نادان تو اتنا نہیں جانتا کہ آپ کے تو ایک ادنی اشارہ پر ہزاروں لوگ جانیں فدا کر دیتے تھے مگر تو مجھے آپ سے برتر کہنے کے باوجود میرے کہنے پر میری بات نہیں مانتا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو مشاہدات کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا اور اس امر کے ایسے بین ثبوت دیئے کہ کوئی انکار نہیں کرسکتا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے ایک ادنی اشارے پر ہزاروں لوگ جانیں فدا کر دیتے تھے اور عزیز سے عزیز چیز مسرت کے ساتھ قربان کر دیتے تھے۔اگر انہوں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی ان میں یہ بات نہ پیدا ہوسکتی۔تاریخ سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی جنگ کے لئے جب تشریف لے گئے اس وقت انصار کے ساتھ آپ کا معاہدہ یہ تھا کہ وہ مدینہ کے اندر آپ کی حفاظت کریں گے۔یعنی اگر کوئی دشمن مدینہ میں داخل ہو کر آپ پر حملہ کرے گا تو اس کا مقابلہ کریں گے باہر جا کر نہیں لڑیں گے۔بدر کی طرف جاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ لڑائی ہوگی موقع کے قریب آکر اس کی اطلاع دی اور مشورہ کیا کہ ہمیں لڑنا چاہئے یا نہیں۔مہاجرین نے کہا ضرور لڑنا چاہئے مگر اس جواب کے بعد آپ نے پھر فرمایا کہ لوگو! بولو کیا کرنا چاہئے؟ مہاجرین پھر جواب دیتے مگر اس جواب کے بعد آپ نے پھر یہی فرمایا۔اس پر ایک انصاری بولے اور کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ کا منشا شاید ہم سے ہے۔آپ سے بیشک ہمارا معاہدہ تھا مگر اُسی وقت تک کے لئے تھا جب تک آپ کے ذریعہ ہم نے خدا کو نہ دیکھا تھا اور صرف سنی سنائی باتیں تھیں۔اس کے بعد آپ کے ظہور سے ہم نے زندہ خدا کے زندہ نشانات دیکھے اب وہ حالت نہیں۔اب تو اگر آپ سمندر میں کود پڑنے کا حکم دیں گے تو ہمیں اس میں ذرا تأمل نہ ہوگا۔خدا کی قسم ! دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں پر سے گزر کر نہ آئے۔ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی ، دائیں بھی لڑیں۔