سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 106
سيرة النبي متر 106 جلد 4 اپنا نقصان کر کے اس کا بدلہ ادا کیا ہے کیونکہ اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ پہلے انبیاء بھی راستباز تھے تو یہ جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر آپ کی کیا ضرورت تھی۔اگر آپ یہ کہہ دیتے کہ پہلے سب چور اور بٹمار تھے اور میں نبی ہوں کیونکہ دنیا کو ایک نیک راہنما کی ضرورت تھی تو آپ کے لئے بہت آسانی رہتی۔مگر نہیں، آپ نے اس احسان کا بدلہ دینے کے لئے فرمایا کہ اِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ 25 ان نبیوں کے کہنے سے تو شاید اب ہیں یا سو دو سو لوگ ہی داخل اسلام ہوئے ہوں گے مگر آپ نے کروڑ ہا انسانوں سے ان کی تقدیس منوا دی اور اس طرح اس معمولی سے احسان کا اتنا شاندار بدلہ دیا اور خود نقصان اٹھا کر دیا۔خود ان کی قوموں نے ان پر اعتراض کئے مگر آپ نے ان کو دور کیا اور فرمایا کہ ان میں عیب ظاہر کرنے والا خود عیبی ہے۔غرباء کو بدلہ انبیاء کی جماعتوں میں پہلے ہمیشہ فر با ری داخل ہوتے ہیں چنانچہ ہر قتل غرباء نے بھی ابوسفیان سے یہی پوچھا تھا کہ فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُوْنَهُ أم ضُعَفَاتُهُم 26 مگر جب جماعت قائم ہو جاتی ہے اور روپیہ وغیرہ آنے لگے تو ان کے رشتہ دار مالک بن بیٹھتے ہیں اور آپس میں بانٹ لیتے ہیں مگر آپ نے فرمایا کہ جو اموال آئیں میری اولا د خواہ غریب ہی ہو اس کا ان پر کوئی حق نہ ہو گا 27۔غرباء نے صلى الله دین کی خدمت کی تھی اور یہ رسول کریم ﷺ پر کوئی احسان نہ تھا۔ظاہر میں وہ بے شک آپ کی مدد کرتے تھے مگر اصل میں یہ ان کی اپنی جانوں کی مدد تھی مگر پھر آپ نے ان کی اس برائے نام امداد کا اس قدر لحاظ کیا کہ فرمایا کہ ہم اپنی اولاد کا حق بھی خواہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو ان کو دیتے ہیں۔صفتِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّين چوتھی صفت اس میں مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 28 بیان کی گئی ہے۔اور مالک وہ ہوتا ہے جو اپنی چیز کا پہلے سے فکر کرے۔نوکر تو کہہ دے گا دیکھا جائے گا مگر مالک تمام باتوں کا پہلے