سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 94

سيرة النبي عليه 94 جلد 4 کالے، ایشیائی، یورپین سب اس کی ربوبیت کے نیچے ہیں۔اور وہ چھوٹے بڑے امیر غریب سب کی ربوبیت کرتا ہے۔صفت رحمانیت دوسری صفت رحمن ہے یعنی جتنی طاقتیں انسان کے اندر ہیں ان کے استعمال کے بیرونی سامان بھی مہیا فرماتا ہے۔دنیا کی حکومتوں میں یہ بات نہیں۔مثلاً یونیورسٹی ہے وہ علم پڑھانے کا سامان تو کرتی ہے مگر یہ نہیں کہ بعد میں نوکری بھی ضرور دے۔وہ کہتی ہے کہ ہم نے پڑھا دیا اور اب جاؤ اپنے لئے روزگار تلاش کرو۔وہ خالی علم دیتی ہے اس کے استعمال کے ذرائع نہیں دیتی مگر اللہ تعالیٰ رحمن ہے یعنی وہ قوتوں کے استعمال کے ذرائع بھی ساتھ دیتا ہے۔رحمانیت کی لطیف تشریح ہر چیز جو اس نے پیدا کی ہے اس کے مقابل ایک ذریعہ اس کے استعمال کا بھی بنایا ہے۔مثلاً آنکھ ہے اس کے لئے روشنی ضروری ہے تا کہ وہ دیکھ سکے اس لئے اس نے سورج پیدا کیا۔پھر یہ ضروری ہے کہ آنکھ خوبصورت اشیاء کو دیکھے تا اس میں طراوت پیدا ہو اور اس نے خوبصورت مناظر ، سبزیاں، خوبصورت انسان ، چرند، پرند، درخت، بیل بوٹے وغیرہ اشیاء پیدا کر دیں۔پھر اس نے کان دیئے ہیں مگر یہ نہیں کہا کہ آواز میں خود پیدا کرو بلکہ آواز بھی ساتھ ہی پیدا کر دی ہے۔پھر آوازوں کے سننے میں بھی بے شمار فرق ہیں اگر سب کی آواز ایک سی ہوتی تو امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا لیکن اس قدر بار یک فرق ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔گاڑی آتی ہے، گھوڑا آتا ہے لیکن کان دونوں کے شور کو پہچان لیتے ہیں۔پھر ہر انسان کی آواز میں کچھ نہ کچھ فرق ہے۔تو اتنے امتیاز ہیں کہ اگر انہی کو دیکھا جائے تو کان کے لاکھوں کام نظر آتے ہیں۔پھر چھونے کی طاقت دی ہے مگر یہ نہیں کہا کہ اس کے لئے کام خود تلاش کرو بلکہ چھونے کے لئے چیزیں بھی پیدا کر دی ہیں۔کوئی نرم چیز ہے، کوئی سخت ، کوئی پھسلنی اور کوئی کھردری ، پھر ان میں سے ہر ایک کی کئی اقسام ہیں۔نرمی میں بھی ہزاروں فرق ہیں۔