سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 90
سيرة النبي عمال 90 جلد 4 خصوصیت سے ناپسندیدہ بات ہے۔اور اس دن بالخصوص اس بات کا لحاظ کرنا چاہئے کہ ایسی بات نہ کی جائے جس سے کسی کا دل دکھے۔مصنوعی حد بندیوں کے نقصانات ان کے اس شکوہ کے متعلق کہ جلوس ان کی گلیوں میں سے گزرا جس کا پہلے دستور نہ تھا میں اپنا خیال ظاہر کر دیتا ہوں اور میرا اپنا خیال یہ ہے کہ یہ تنگ دلی ہم سب قوموں کو مٹا دینی چاہئے۔میرے نزدیک جب تک ہندو بازار، مسلم بازار اور ہند و محلہ ، مسلم محلہ کی تفریق باقی ہے، ہمارے اندر محبت سے ایک دوسرے کی طرف بڑھنے کی جستجو پیدا ہی نہ ہو گی۔ان مصنوعی حد بندیوں کی وجہ سے قلوب میں ایسی گر ہیں رہیں گی کہ جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے روکیں گی۔جو چیز قلوب کو مجروح کرتی ہے وہ خواہ ہند و محلہ میں کی جائے یا مسلم محلہ میں وہ بہر حال بری ہے۔اگر ہندو اپنے محلہ میں مسلمانوں کو گالیاں دیں یا مسلمان اپنے محلہ میں ہندوؤں کو برا بھلا کہیں تو یہ تو بے شک صحیح ہے کہ چونکہ ایک دوسرے کی گالیوں کو ایک دوسرے نے سنا نہیں اس لئے جوش نہیں پھیلے گا اور فساد نہیں ہو گا۔لیکن فساد اصل دل کا ہوتا ہے۔اگر اپنی اپنی جگہوں پر دروازے بند کر کے بلکہ کوٹھڑیوں میں اور اس سے بھی بڑھ کر ایک دوست دوسرے کے کان میں بلکہ اپنے ہی دل میں ایک دوسرے کو گالیاں دے تب بھی یہ فعل ویسا ہی برا ہوگا کیونکہ اپنے دل میں گالی دینے والے کا دل تو خراب ہو گیا اور ایسے دل میں محبت کی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔اس لئے اگر قلوب کی درستی کو مدنظر رکھا جائے تو ایک دوسرے کو گالی دینے یا برا بھلا کہنے کے لئے ظاہر و باطن یا اپنے اور پرائے محلہ کی حد بندی کوئی نہیں لیکن اگر دل شکنی نہ کی جائے اور ہند و جلوس ہمارے محلہ سے گزر جائے تو اس میں خرابی ہی کیا ہے اور اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے یا اگر ہمارا جلوس بغیر کسی دل شکنی کے ہند و محلہ میں سے گزر جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔