سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 89

سيرة النبي علي 89 68 جلد 4 اسوۂ کامل حضرت مصلح موعود نے 26 نومبر 1933ء کو قادیان میں جلسہ سیرت النبی ﷺ پر جو تقریر فرمائی وہ بعد میں اسوۂ کامل“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔یہ تقریر درج ذیل ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔اصل مضمون شروع کرنے سے قبل میں ایک تحریر کے متعلق کچھ کہنا ایک شکایت چاہتا ہوں جو اسی وقت مجھے دی گئی ہے۔اس پر چند ہندو اصحاب کے دستخط ہیں اور انہوں نے شکایت کی ہے کہ آج ایک جلوس ان کی گلیوں میں گزرا جس کا پہلے دستور نہ تھا اور کہ اس میں شامل ہونے والے بعض طالب علموں کا رویہ ناپسندیدہ تھا۔پیشتر اس کے کہ میں یہ معلوم کروں کہ ان کے رویہ میں کیا ناپسندیدگی تھی جس کے متعلق اگر وہ مجھے بعد میں اطلاع دیں گے تو میں ہر نا پسندیدہ رویہ کے متعلق نوٹس لوں گا لیکن عام نصیحت میں تحقیق سے پہلے ہی کر دیتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی ناپسندیدہ حرکت کی تو یہ بہت ہی ناپسندیدہ بات تھی۔یہ دن ہم نے اس بات کی تیاری کے لئے مقرر کیا ہے کہ مختلف اقوام میں صلح و آشتی کی بنیاد بن سکے اور وہ دن جسے ہم اقوام میں صلح کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں اور جسے ہم آہستہ آہستہ اس صورت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ سب مذاہب کے بزرگوں کو اچھے ناموں سے یاد کیا جائے تا مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں جو کدورت ہے وہ دور ہو اور پیار بڑھے اس دن کسی کا دل دکھانا جو پہلے ہی اسلامی تعلیم کی رو سے ناپسندیدہ بات ہے اور مسلمان کو اس بات سے جس سے دوسرے کو دکھ ہو مجتنب رہنے کا حکم ہے،